Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب قسمۃ الغنائم و الغلول

باب غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قسمت کے معنی بخشش کرنا بھی ہیں اور اندازہ لگانا بھی اور حصہ کرنا بھی۔غنیمت وہ مال ہے جو بحالت جنگ کفار سے چھینا جاوے۔اور فئ ہر وہ مال ہے جو کفار سے حاصل کیاجائے خواہ جبرًا خواہ صلحًا بشرطیکہ حلال طریقہ سے حاصل کیا جائے لہذا غنیمت خاص فئ عام۔چنانچہ غنیمت،جزیہ،خراج ،مال صلح جو کفار سے صلح کرکے حاصل کیا جائے ان سب کو فئ کہا جاتا ہے۔(مرقات) غلول غنیمت کے مال میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔(اشعہ)

3985 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضعفنا وعجزنا فطيها لنا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں ۱؎ یہ اس لیے ہے کہ اﷲ نے ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو اس نے ہمارے لیے یہ حلال فرمادیں۲؎

۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے لم تحل بغیر ف کے اس صورت میں یہ کلام مستقل ہے اور اگر فلم تحل ف سے ہو تو یہ کلام کسی گذشتہ کلام پر مرتب ہے،یہ پورا کلام شریف اسی باب کی تیسری فصل میں آئے گا۔یعنی غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی نبی کی امت کے لیے حلال نہ کیا۔وہ لوگ جب جہا دمیں کفار سے مال چھینتے تھے تو یہ سارا مال جمع کرکے کسی جگہ رکھتے تھے،آسمان سے غیبی آگ بغیر دھوئیں والی آتی تھی اسے جلا جاتی تھی،یہ آگ کا جلا ڈالنا اس کی علامت ہوتی تھی کہ یہ جہاد مقبول ہے اور غنیمت میں خیانت نہیں ہوئی،اگر آگ نہ جلاتی تو وہ لوگ سمجھ جاتے کہ یا تو جہاد مردود ہوگیا یا اس غنیمت میں کچھ خیانت ہوئی ہے یہ ہی حال ان کی قربانیوں کا تھا،ہمارے لیے غنیمت اور قربانی دونوں چیزیں حلال فرمادی گئیں۔(از مرقات ولمعات مع اضافہ)

۲؎ یعنی ان گذشتہ قوموں کے لحاظ سے ہم لوگ جسمًا کمزور بھی ہیں اور مال میں کم بھی اور تاقیامت بہت کمزور و غریب لوگ جہاد کیا کریں گے۔ان وجوہ سے ہمارے لیے غنیمت حلال کردی کہ جہاد میں ثواب بھی حاصل کریں اور مال بھی یہ رعایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقہ میں ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد گزشتہ دینوں میں بھی تھے۔ہم نے اپنی تفسیر نعیمی میں ثابت کیا ہے کہ جہاد حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کے زمانہ سے شروع ہوا۔

3986 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي قتادةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا هَا اللَّهِ إِذاً لَا يعمدُ أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ فأعطه» فأعطانيه فاتبعت بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مالٍ تأثَّلْتُه فِي الإِسلامِ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین کے سال گئے ۱؎ تو جب ہم ملے تو مسلمانوں میں بے چینی ہوگئی میں نے مشرکین کے ایک شخص کو دیکھا ۲؎ کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان پر غالبا آگیا ۳؎ تو میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری ۴؎ تو میں نے زرہ کاٹ دی وہ مجھ پر متوجہ ہوگیا مجھے خوب لپٹ گیا میں نے اس سے موت کی بو پالی ۵؎ پھر اسے موت نے پالیا تب اس نے مجھے چھوڑ دیا میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا میں نے کہا لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے فرمایا اﷲ کا حکم ۶؎ پھر غازی لوٹ پڑے ۷؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما ہوئے تو فرمایا کہ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا ہو جس کی گواہی اس کے پاس ہو تو اس کا سامان قاتل ہی کا ہے ۸؎  تو میں بولا کہ میری گواہی کون دے گا پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں نے پھر کہا کہ میری گواہی کون دیتا ہے پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوا ۹؎ تو فرمایا اے ابو قتادہ تمہارا کیا حال ہے چنانچہ میں نے حضور کو خبر دی تو ایک شخص بولا حضور یہ سچے ہیں اور اس کافر کا سامان میرے پاس ہے حضور انہیں میرے متعلق راضی فرمائیں ۱۰؎ ابوبکر صدیق نے فرمایا اﷲ کی قسم تب تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اﷲ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف یہ قصد بھی نہ کریں گے کہ جو اﷲ رسول کی طرف جہاد کرے تجھے اس کا سامان دے دیں ۱۱؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سچے ہیں اسے سامان دے دو چنانچہ اس نے وہ مجھے دے دیا تو میں نے اس کا ایک باغ بنی سلمہ میں خریدا ۱۲؎ یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں جمع کیا۔(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To