Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثالث

تیسری فصل

3984 -[8]

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: «أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسول لَا يُقتَلُ. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کذاب کے قاصد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎ تو حضور نے ان سے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اﷲ کا رسول ہوں ۲؎ تو وہ بولے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اﷲ کا رسول ہے۳؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں اﷲ اور رسول پر ایمان لایا۴؎  اور اگر میں قاصد کو قتل کرتا ہوتا تو تم کو قتل کردیتا ۵؎ عبداﷲ کہتے ہیں کہ پھر طریقہ جاری ہوگیا کہ قاصد کو قتل نہ کیا جائے ۶؎(احمد)

۱؎ ایلچی بن کر کوئی پیغام لے کر،مسیلمہ کذاب نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے براہ راست منہ در منہ بھی گفتگو کی ہے اور ایلچیوں کے واسطے سے بھی۔چنانچہ ایک بار اس نے حضور انور سے مشافتہً عرض کیا تھا کہ اگر آپ اپنے بعد خلافت میرے لیے تحریر فرمادیں تو میں آپ سے صلح کرلوں یعنی نبوت چھوڑ دوں۔حضور انور کے ہاتھ شریف میں ایک سبز مسواک تھی آپ نے فرمایا کہ اگر تو یہ سبز مسواک بھی مجھ سے مانگے تو تجھ کو نہ دوں گا اور تیرا جو انجام ہونے والا ہے وہ مجھے خواب میں دکھادیا گیا ہے،یہ اسی کی عرض و معروض وہ ہے جو قاصد پیغامبر کے ذریعے سے اس نے کی اس کا ذکر ابھی پچھلی حدیث میں گزرچکا۔

۲؎ یا تو حضور انور نے تبلیغ اسلام کرتے ہوئے یہ فرمایا یا کوئی معجزہ دکھا کر یہ ارشاد کیا۔بہرحال اس سے معلوم ہوا کہ کافر ایلچی کو تبلیغ اسلام کرنا جائز ہے۔

۳؎ یعنی نعوذباﷲ آپ اﷲ کے رسول نہیں بلکہ مسیلمہ اﷲ کا رسول ہے یا آپ بھی اﷲ کے رسول ہیں اور مسیلمہ بھی اﷲ کا رسول ہے۔آپ خاتم النبیین نہیں آپ کے زمانہ میں اور رسول بھی ہوسکتے ہیں۔پہلی صورت میں وہ کافر اصلی ہیں،دوسری صورت میں وہ دونوں موجودہ قادیانیوں کی طرح مرتد ہیں کیونکہ اسلامی کلمہ گو گمراہ فرقے جن کی گمراہی حد کفر تک پہنچ جاوے وہ مرتدین ہوتے ہیں اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے منکرین زکوۃ اور مسیلمہ کذاب کو مع اس کے معتقدین کے مرتد تصور فرمایا مرتد سے نہ جزیہ لیا جاتا ہے نہ صلح اس کے لیے  صرف تلوار یا اسلام ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:" تُقٰتِلُوۡنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص حضور انور کے زمانہ میں اور بھی کسی کو نبی مانے وہ مرتد ہے۔اس سے موجودہ دور کے دیوبندیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے حضور انور خاتم النبیین ہیں کہ نہ تو حضور کے زمانہ میں نہ حضور انور کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا نہ اصلی نبی نہ ظلی بروزی مراتی مذاقی افیونی چرسی نبی۔حضور کی نبوت تمام نبیوں کی نبوت کی ناسخ ہے،حضور ہی آخری نبی ہیں۔

۴؎ اس فرمان عالی میں رسولہ سے مراد جنس رسول ہے یعنی میں اﷲ کے سارے سچے نبیوں پر ایمان لایا۔مسیلمہ کے جھوٹا ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ میں نے اس کو جھوٹا بے دین فرمادیا۔

۵؎ کیونکہ تم مرتد ہو اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے مگر ایلچی ہو لہذا قتل نہیں کیے جاؤ گے بخیریت واپس چلے جاؤ۔

 



Total Pages: 807

Go To