Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎  اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند شریف باندھ کر غسل فرمارہے تھے،چونکہ غسل خانہ میں نہ تھے اس لیے جناب فاطمہ کپڑا تانے سامنے کھڑیں تھیں،یہ کپڑا غسل خانہ کی دیوار کی طرح آڑ کا کام دے رہا تھا،غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرنا چاہیے۔

۴؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یا فاطمہ زہرا کو کیونکہ جو تہبند باندھے غسل کررہا ہو اسے سلام کرنا جائز ہے،ہاں ننگے بدن نہانے والے کو سلام نہ کرے کہ ننگا آدمی جواب سلام نہیں دے سکتا اس لیے پیشاب پاخانہ استنجاء کرنے والے کو سلام کرنا منع ہے وہ ننگا ہے۔

۵؎ معلوم ہوا کہ غسل کی حالت میں کلام کرسکتے ہیں،وضو کرتے ہوئے دنیاوی کلام،سلام جواب سلام سب ممنوع ہیں صرف دعائیں پڑھے۔ ہرغسل کا یہ ہی حکم ہے جنابت کا غسل ہو یا کوئی اور،یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے والے پیارے کی آمد پر اظہار خوشی کے کلمات کہنا سنت ہے۔

۶؎ نماز چاشت جیسا کہ ترمذی نے شمائل شریف میں فرمایا۔ ایک کپڑے میں نماز کے احکام کتاب الصلوۃ باب الستر میں گزر گئے۔

۷؎ حضرت علی جناب ام ہانی کے سگے بھائی ہیں مگر صرف ماں کا ذکر فرمایا اظہار محبت کے لیے جیسا ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ابن ام۔

۸؎  ہبیرہ ابن وھب ابن عمرو ابن عائذ ابن عمران ابن مخزوم جناب ام ہانی کے خاوند ہیں۔اس فلاں کا نام معلوم نہ ہوسکا یعنی میں نے اپنے خاوند کے بیٹے کو جو میرے پیٹ سے ہیں یا ان کی دوسری بیوی کے پیٹ سے ہیں امان دے دی مگر علی اس کی تلاش میں ہیں قتل کرنے کے لیے۔خیال رہے کہ جناب ام ہانی کے اسلام لانے پر ہبیرہ سے آپ کی جدائی ہوگئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس فلاں کا نام حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ابن عبدالملک ابن عبداﷲ ابن عمرو ابن مخزوم ہے۔مگر پہلی روایت قوی ہے کہ وہ شخص ہبیرہ کا بیٹا ہے ام ہانی کا سگا یا سوتیلا بیٹا۔(دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات)حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ غسل یا تو خود ام ہانی کے گھر تھا یا حضرت علی کے گھر یا کسی اور جگہ،بعض روایات میں ہے کہ فرماتی ہیں حضور نے میرے گھر میں غسل فرمایا۔

۹؎ یعنی تمہاری امان ہماری مان ہے۔حضرت علی اسے قتل نہیں کریں گے۔

۱۰؎  یہ دونوں شخص جو حضرت ام ہانی کے دیور ہیں ایک تو عبداﷲ ابن ابی ربیعہ ابن مغیرہ ہیں دوسرے حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ہیں دونوں مخزومی ہیں۔ان دونوں روایتوں میں کوئی مخالف نہیں۔ جناب ام ہانی نے ان دونوں کو بھی امان دی تھی اور ہبیرہ کے بیٹے کو بھی حضور انور نے سب کی امان برقرار رکھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3978 -[2]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَأْخُذُ لِلْقَوْمِ» يَعْنِي تُجيرُ على الْمُسلمين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عورت پوری قوم کے لیے امان دے سکتی ہے ۱؎ یعنی مسلمان پر امان دے سکتی ہے ۲؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی ایک مسلمان عورت قوم کفار کو امان میں لے سکتی ہے،کسی قوم سے اس کا کہہ دینا کہ میں نے تم کو امان دی معتبر ہے اور اس قوم کو امان مل جائے گی۔

 



Total Pages: 807

Go To