Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الامان

باب امان کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  امان و امن ضد ہے خوف کی بھی اور جنگ کی بھی،یہاں کفار کو امان دینا مراد ہے،اس امان کی بہت صورتیں ہیں:مستامن کو امان دینا کہ جو کافر دارالحرب سے ہمارے ملک میں چند روز کے لیے ہماری اجازت سے آئے اسے مستامن کہتے ہیں،بحالت جنگ کسی کافر کو امان دینا،کسی مصلحت سے ذمی کافر کو دائمی امان دینا،جس کافر قوم سے ہماری صلح و معاہدہ ہوگیا ہے اسے زمانہ صلح میں امان دینا،کافروں کا قاصد یا ایلچی کا ہمارے ہاں پیغام رسانی کے لیے آنا اسے امان دینا جیسا کہ ابھی احادیث میں آرہا ہے۔

3977 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أم هَانِئ بنت أَي طالبٍ قالتْ: ذهبتُ إِلى رسولِ الله عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ» فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أم هَانِئ» قَالَت أُمَّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قد أمنا من أمنت»

روایت ہے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں فتح کے سال گئی ۲؎ تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر کپڑے سے آڑ کیے تھیں۳؎ تو میں نے سلام کیا ۴؎ فرمایا یہ کون ہیں میں نے کہا ام ہانی بنت ابو طالب،فرمایا ام ہانی خوب آئیں ۵؎ پھر جب اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو کھڑے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۶؎ پھر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں جائے علی کہتے ہیں ۷؎ کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں امان دے چکی ہوں ھبیرہ کا بیٹا فلاں ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے بھی امان دے دی ۹؎  ام ہانی فرماتی ہیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔(مسلم،بخاری) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ فرماتی ہیں میں نے اپنے دیوروں میں سے دوشخصوں کو امان دے دی تھی۱۰؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے اسے امان دے دی جسے تم نے امان دے دی۔

۱؎ آپ کا نام فاختہ یا عائلہ ہے،ابو طالب کی بیٹی جناب علی مرتضٰی کی بہن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چچا زاد ہیں، انہی کے گھر سے حضور کو معراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں    ۵۱ھ؁  اکیاون میں وفات پائی،آپ سے حضرت علی و عباس اور بہت تابعین نے روایت کی۔(اشعہ)

۲؎ یعنی خاص فتح مکہ کے دن جب حضور انور سب کو امان دے کر فارغ ہو چکے تھے غسل فرمارہے تھے۔

 



Total Pages: 807

Go To