Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کی کوشش کرتے ہو تمہاری اس سرکشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم پر مسلمانوں کا راج ہوگا،پھر تم کو مسلمان ہونا پڑے گا۔خیال رہے کہ کفار عرب جزیہ نہیں دے سکتے ان کے لیے صرف تلوار یا اسلام ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ"اس آیت سے کفار عرب یا تو مستثنٰی ہیں یا چونکہ کفار عرب کو وطن چھوڑ دینے کی اجازت ہے اس لیے وہ بھی اس آیت میں داخل ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ھٰذا سے اشارہ اس ظلم و تشدد یا مرتد کرنے کی کوشش کی طرف ہے یعنی ایسا حاکم اسلامی تم پر مقرر ہوگا جو تم کو اس ظلم کی سزا دے گا اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے۔

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر غلام مسلمان ہوکر دارالحرب سے دارالاسلام میں آجائے تو وہ آزاد ہوگا،یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کلمہ پڑھ لینے والے پر بلا دلیل شرعی منافقت کا شبہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہاں علامات نفاق یا علامات کفر موجود ہوں تو انہیں کافر یا منافق کہا جاسکتا ہے،رب تعالٰی نے مدینہ کے منافقوں کو جھوٹا اور منافق فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ"حضرات صحابہ نے منکرین زکوۃ پر جہاد کیا اور منکرین تقدیر کو کافر کہا اگرچہ وہ کلمہ گو تھے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3976 -[17]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا صَبَأْنَا فجعلَ خالدٌ يقتلُ ويأسِرُ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أسيره حَتَّى قدمنَا إِلَى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فذكرناهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صنعَ خالدٌ» مرَّتينِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد ابن ولید کو بنی جزیمہ کی طرف بھیجا ۱؎ تو خالد نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے یہ جانا کہ کہہ دیتے ہم اسلام لائے تو وہ کہنے لگے ہم دین سے نکل گئے ۲؎ نکل گئے تو حضرت خالد انہیں قتل کرنے اور قید کرنے لگے۳؎ اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا قیدی دیاحتی کہ ایک دن وہ ہوا کہ حضرت خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کردے۴؎  تو میں بولا اﷲ کی قسم میں تو اپنے قیدی کو قتل نہ کروں گا ۵؎  اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے حتی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ ہم نے حضور سے ذکر کیا تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا الٰہی میں اس سے تیری طرف بیزاری ظاہرکرتا ہوں ہوں جو خالد نے کہا  دوبارہ فرمایا ۶؎(بخاری)

۱؎  تاکہ انہیں اسلام کی دعوت دیں اگر وہ قبول نہ کریں تو ان پر جہاد کریں۔جزیمہ جیم کے فتحہ ذال کے کسرہ سے ایک مشہور قبیلہ تھا۔

۲؎ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے پرانے دین سے نکل گئے اسلام میں داخل ہوگئے،حضرت خالد یہ سمجھے کہ کہتے ہیں ہم دین اسلام سے نکلے ہی رہیں گے مسلمان نہ ہوں گے۔عربی میں صابی بے دین کو کہتے ہیں جو دین سے نکل جاوے غرضیکہ آپ ان کا مقصد نہ سمجھ سکے۔

 



Total Pages: 807

Go To