Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب المحرمات

حرام عورتوں کاباب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ محرمات تحریم سے بنا یعنی حرام کی ہوئی عورتیں جن سے نکاح درست نہیں۔خیا ل رہے کہ عورتیں تین وجہ سے حرام ہوتی ہیں: نسب، سسرالی رشتہ،دودھ یعنی رضاعت،نسب کی وجہ سے چار قسم کی عورتیں حرام ہیں(۱)اپنی اولاد جیسے بیٹی،نواسی،پوتی، اور انکی اولاد (۲)اپنے اصولی یعنی جن کی اولاد میں ہم ہیں،جیسے ماں دادی نانی وغیرہ تم اصولی(۳)اپنے قریبی اصولی یعنی ماں باپ کی مطلق اولاد جیسے بہن بھانجی بھتیجی اور ان کی تمام اولاد(۴)اپنے بعیدی اصولی یعنی دادا نانا کی قریبی اولاد جیسے خالہ پھوپھی کہ یہ خود تو حرام ہیں مگر ان کی اولاد حلال اور سسرالی رشتہ سے اپنی بیوی کی اولاد اور اس کی ماں دادی وغیرہ،اصولی حرام اپنی اولاد بیٹے پوتے نواسے کی بیوی،یوں ہی اصول کی بیویاں جیسے باپ دادا نانا کی بیوی،رضاعت یعنی شیر خوارگی سے تمام نسبی رشتہ کی طرح عورتیں حرام ہیں۔شعر

از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند                                                واز جانب شیر خوار زوجان و فروع

محارم عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے یعنی جو دو لڑکیاں ایک دوسرے پر حرام ہوں انہیں نکاح میں جمع نہیں کرسکتے، جیسے دو بہنیں، پھوپھی،بھتیجی،خالہ بھانجی وغیرہ تفصیل کتب فقہ میں دیکھئے۔

3160 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَة وعمتها وَلَا بَين الْمَرْأَة وخالتها»

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ عورت اور نہ اس کی پھوپھی کو جمع کیا جائے ۱؎ اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی ایسی عورتوں کو نہ تو نکاح میں جمع کرو، نہ صحبت میں،لہذا پھوپھی،بھتیجی وغیرہ ایک وقت ایک شخص کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں،اور اگر یہ دونوں ایک شخص کی لونڈیاں ہوں، تو مولیٰ ان دونوں سے صحبت نہیں کرسکتا۔

۲؎ حرمت جمع کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے کہ ان میں سے جو بھی مرد فرض کی جائے تو دوسری اس پر حرام ہو دیکھو خالہ بھانجی ،اگر خالہ مرد ہوتی تو ماموں ہوتی بھانجی اس پر حرام ہوتی،اگر بھانجی مرد ہوتی تو بھانجہ ہوتی خالہ اس پر حرام ہوتی لہذا ماں اور سوتیلی بیٹی کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں اگر بیٹی لڑکا ہوتی تو یہ سوتیلی ماں اس پر حرام ہوتی لیکن اگر ماں مرد ہوتی تو اس پر یہ لڑکی حرام نہ ہوتی لہذا حرمت ایک طرف سے ہے۔

3161 -[2]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يحرم من الْولادَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

 روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دودھ کے رشتہ سے وہ ہی عورتیں حرام ہوتی ہیں جو ولادت کے رشتہ سے حرام ہوتی ہیں ۱؎ (بخاری)۲؎

 



Total Pages: 807

Go To