Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱۰؎ یہاں وعدے سے مراد وہ وعیدیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت کفار تک پہنچیں خواہ دنیاوی ہوں یا برزخی جیسے بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانا اور عذاب قبر وغیرہ،اخروی وعیدیں جن کا ظہور قیامت میں یا بعد قیامت ہوگا مراد نہیں کہ وہ ابھی پوری نہیں ہوئیں آئندہ ہوں گی لہذا حدیث بالکل صاف ہے کوئی اعتراض نہیں،اس فرمان عالی کا مقصد ان کفار کو سرزنش فرمانا ہے۔

۱۱؎ یعنی یہ مردے نہ تو آپ کا فرمان سن سکتے ہیں نہ جواب دے سکتے ہیں ایسوں سے کلام فرمانا عبث ہے اور عبث کام شان نبوت کے خلاف ہے۔

۱۲؎ اسمع اسم تفضیل ہے جو زیادتی سننے پر دلالت کرتی ہے،جب تفضیل کی نفی ہوئی تو زیادتی کی نفی ہوئی یعنی تم زندے ان مردوں سے زیادہ سننے والے نہیں اورتمہارے برابر بلکہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں کہ تم صرف سن رہے ہو مگر وہ میرا کلام سن بھی رہے ہیں اور عذاب قبر دیکھ بھی رہے ہیں۔

۱۳؎ ایسا جواب جو عوام سن سکیں ورنہ میت کا سننا اس کا جواب دینا احادیث سے ثابت ہے مگر وہ جواب عام لوگ نہیں سنتے،مقبولینِ بارگاہ خصوصًا کشف قبور والے حضرات میت سے سلام و کلام اورگفتگو سب کچھ کرلیتے ہیں۔

۱۴؎ یعنی مقتولین بدر کفار  کا حضور بدر ہر وقت زندوں کا کلام نہیں سنتے۔یہ قتادہ کا قول ہے۔

مسئلہ سماع موتی

خیال رہے کہ حضرات انبیاءکرام اور اولیاءاﷲ کے بعد وفات سننے دیکھنے تصرف کرنے کے متعلق تمام اسلامی فرقے اسی پرمتفق ہیں کہ وہ حضرات بعد وفات سنتے دیکھتے عالم میں تصرف کرتے ہیں کیونکہ حضرات انبیاء دنیاوی حقیقی حیات سے زندہ ہیں اور حضرات اولیاء بہ حیات اخروی معنوی زندہ ہیں۔(اشعۃ اللمعات)عام مردوں کے سننے کے متعلق علماء اسلام کی تین جماعتیں ہیں:ایک جماعت کہتی ہے کہ عام مردے کبھی نہیں سنتے ۔حضرت عائشہ صدیقہ بھی پہلے یہ  ہی فرماتی تھیں مگر بعد میں آپ نے اس سے رجوع کرلیا  اور سماع موتی کی قائل ہوں گئیں۔ (اشعۃ اللمعات)دوسری جماعت کہتی ہیں کہ  مردے عام حالات میں تو نہیں سنتے مگر خاص وقتوں میں سنتے ہیں جیسے بعد دفن،کہ دفن کرنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتے ہیں یا حضور کے اس فرمان کے وقت مقتولین میں زندگی پیدا کی گئی جس سے انہوں نے حضور کا یہ فرمان سن لیا۔یہ قول حضرت قتادہ کا ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا۔تیسری جماعت کا قول ہے کہ عام مردے بھی ہر وقت سنتے،زائرین کو دیکھتے،پہنچانتے ہیں۔

منکرین سماع کے دلائل حسب ذیل ہیں:

(۱)قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ"اے محبوب تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو پکار سنا سکو(۲)قرآن کریم فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسْمِعٍ مَّنۡ فِی الْقُبُوۡرِ"جو قبروں میں ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے (۳)حضرت عائشہ صدیقہ کا فرمان کہ مردے نہیں سنتے(۴)فقہاء فرماتے ہیں کہ جوکسی سے نہ بولنے کی قسم کھالے پھر اس سے مرے بعد کلام کرے تو اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں کیونکہ میت کلام سنتی سمجھتی نہیں۔منکرین سماع موتی کے کل یہ چار دلائل ہیں۔

قائلین سماع موتی کے دلائل حسب ذیل ہیں:

 



Total Pages: 807

Go To