Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب حکم الاسراء

باب قیدیوں کا حکم   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اسراء الف کے فتح سین کے جزم سے جمع اسیر کی بمعنی قیدی۔یہ جمع قلت ہے اور اساری جمع کثرت، چونکہ جہاد میں کبھی کفار قید ہوکر بھی آتے ہیں اس لیے کتاب الجہاد میں اس کا ذکر ہوا۔

3960 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يُدْخَلُونَ الْجَنَّةَ فِي السَّلَاسِلِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «يُقَادُونَ إِلى الجنَّةِ بالسلاسل» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ اس قوم سے خوش ہوتا ہے جو پابہ جولان جنت میں داخل ہوتے ہیں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کی طرف زنجیروں میں کھینچ کر لائے جاتے ہیں ۲؎(بخاری)

۱؎ اس طرح کہ جنگ میں گرفتار ہو کر آتے ہیں،پھر مسلمانوں کے اخلاق و عبادات سے اثر لے کر مسلمان ہوجاتے ہیں،پھر رب تعالٰی انہیں حسن خاتمہ نصب فرماکر جنت میں داخل فرمادیتا ہے۔یہ اسیری ان کی دوزخ سے رہائی جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

۲؎  سرکار کا یہ فرمان عالی بدر کے قیدیوں کو ملاحظہ فرماکر تھا کہ وہ تمام ہی مسلمان بلکہ مسلمان گر ہوگئے۔ حضرت عباس حضرت ابوالعاص وغیرہم اسی دن ہی ایمان لے آئے تھے اگرچہ بعض نے اظہار ایمان فتح مکہ کے دن کیا۔غرضیکہ ان کے لیے یہ قیدوبند اﷲ کی رحمت ہوگئی۔(از اشعہ)اس فرمان کی اور شرحیں بھی کی گئیں۔ بعض لوگ دنیاوی مصیبتیں دیکھ پاکر توبہ کرکے جنتی ہوجاتے ہیں ان کے لیے یہ مصیبتیں زنجیریں ہیں جن کے ذریعہ رب انہیں جنت کی طرف کھینچتا ہے۔

3961 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ» . فَقَتَلْتُهُ فنفَّلَني سلبَه

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیاجب کہ حضور سفر میں تھے تو حضور کے صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا پھر چل دیا ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے تلاش کرو اور اسے قتل کردو ۲؎  میں نے قتل کردیا تو حضور نے اس کا سامان مجھے بخش دیا ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی مسلمانوں کے حالات دیکھ کر ان کے آئندہ ارادے معلوم کرکے ان کی باتیں سن کر مشرکوں کی طرف مخبری کرنے روانہ ہوگیا۔

۲؎  یہ جاسوس یا تو حربی کافر تھا جو بغیر اجازت دارالاسلام میں گھس آیا تھا یا کوئی ذمی کافر تھا جو حربی کفار کی جاسوسی کی وجہ سے اپنا ذمہ توڑ چکا تھا،یہ دونوں قسم کے کفار قتل کے مستحق ہیں آج کل بھی اس پر عمل ہے۔اگر مسلمان کفار کی جاسوسی کرے تو اسے قتل تو نہ کیا جائے گا مگر اسے سزا ایسی سخت دی جائے گی کہ آئندہ جاسوسی کی ہمت نہ کرے۔(مرقات)لیکن اگر کوئی مسلمان کفار کو لشکر اسلام کا پتہ بتائے ان پر گولہ باری کرا کر کفار کے ہاتھوں لشکر اسلام کو قتل کرادے تو یقینًا قتل ہوگا۔مسلمان کو قتل کرنا،قتل کرانا، قتل کا سبب بننا،مسلم قوم کو تباہ کرنا ان سب کی سزا قتل ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To