Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

بھی قبر و حشر میں اﷲ رسول کے سامنے پیش ہونا ہے ہم بھلا کس منہ سے وہاں جائیں گے ہم نے کیا کیا ہے۔اللہ تعالٰی بے ڈھنگوں بے رنگوں کی لاج رکھے بے پوچھے ہی بخشے۔شعر

صدقہ پیارے کی حیا  کا  کہ نہ لے میرا حساب           بخش بے پوچھے میرے سارے گناہ اے کردگار

۴؎ عکار بنا ہے عکر سے بمعنی پلٹ پلٹ کر حملہ کرنا۔عکار مبالغہ ہے جیسے کرارفئۃ لشکر کا وہ حصہ یا وہ سردار جس کی طرف پناہ لی جائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ"۔مطلب یہ ہے کہ تم بھگوڑے نہیں بلکہ کفار پر پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والے شیر ہو،تمہارا میرے پاس آنا بھگوڑا پن نہیں ہے بلکہ اپنی پناہ کے پاس آنا ہے تاکہ پھر تازہ دم ہوکر دوبارہ کفار پر حملہ کرو۔ میں تمہاری پناہ،تمہاری قوت، تمہاری طاقت ہوں۔شعر

مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود                 مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام

اگرشکار کی طرف سے شیر پلٹ جائے تو بزدلی کے لیے نہیں پلٹتا بلکہ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے پلٹا کھاتا ہے،تم شیر ہو میں تمہاری پناہ۔یا رسول اللہ ہم گناہگاروں پر ایسے ہی الطاف کریمانہ فرمانا،آپ کے سوا ہماری کوئی پناہ نہیں۔شعر

یارسول اﷲ بدر گاہت پناہ آوردہ ام          ہمچوکا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام

۵؎ یہ سمجھ کر کہ ہم کیا سمجھے تھے اور حضور نے کیا بشارت دی۔ہم ہم ہیں وہ وہ ہی ہیں۔اس کرم کو دیکھ کر ہم بے ساختہ حضور کے ہاتھوں پر ٹوٹ پڑے جن ہاتھوں کا سہارا دونوں جہان کو ہے۔اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وبارك وسلم۔

۶؎ یعنی فئۃ یعنی پناہ مطلق ہے جس سے عموم حاصل ہوا یعنی میں اپنی امت کی پناہ ہوں ہر مصیبت میں کوئی مصیبت پڑے میری پناہ لیں،دین و دنیا کی آفت و بلا میں حضور سہارا ہیں۔حضور پناہ ہیں تاقیامت ہرمسلمان کی۔شعر

کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ                      تم کہو دامن میں آتم پہ کروڑوں درود

۷؎ یعنی وہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں۔ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے علیٰحدہ علیٰحدہ ان دو بابوں میں ذکر کی ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3959 -[23]

عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطائفِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا

روایت ہے حضرت ثوبان ابن یزید سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف والوں پر گوپھن نصب فرمایا ۲؎  (ترمذی مرسلًا) ۳؎

۱؎ حق یہ ہے کہ ثور ابن یزید ہیں کیونکہ ثوبان ابن یزید صحابہ تابعین میں کسی کا نام نہیں،بعض نسخوں میں صرف ثوبان ہے وہ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں مگر انکے والد کا نام یزید نہیں ثور ابن یزید کلاعی شامی حمصی ہیں،تابعی ہیں،حضرت خالد ابن معدان سے ملاقات ہے، ۵۵اھ؁ ایک سو پچپن ہجری میں وفات پائی۔ (مرقات)

۲؎ یعنی حضور انور نے غزوہ طائف میں طائف کے کنارہ پر گوپھن(گھونی)نصب فرمائی تاکہ اس میں پتھر رکھ کر طائف پر پتھروں کی گولہ باری کی جائے۔بڑی گوپھن سے قلعہ کی دیواریں تک توڑ دی جاتی تھیں،طائف کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔فقیر نے طائف کی زیارت کی ہے،وہاں حضرت عبداللہ ابن عباس کا مزار پرانوار ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To