Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب القتال فی الجھاد

باب جہاد میں قتل   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  جہاد،قتال،غزوہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں۔جہاد بنا ہے جہد سےبمعنی مشقت اورصرف طاقت۔غزوہ بنا ہے غزوٌ سے بمعنی باہر نکلنا اور جنگ کے لیے روانگی،قتال بمعنی ایک دوسرے کو قتل کرنا۔اس باب میں اﷲ کی راہ میں کفار سے لڑنے کے فضائل اور غازی کے ثواب کی احادیث مذکور ہوں گی۔

3937 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن جَابر قَالَ: قَالَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «فِي الْجنَّة» فَألْقى ثَمَرَات فِي يَده ثمَّ قَاتل حَتَّى قتل

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے احد کے دن عرض کیا فرمایئے کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں میں کہاں ہوں گا فرمایا جنت میں ۱؎ تو اس نے اپنے ہاتھ میں سے چھوارے پھینک دیئے ۲؎ پھر جنگ کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی جنت کے اس اعلیٰ مقام میں جو شہیدوں کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کا خاتمہ بالخیر ہونے والا تھا اور تمام گناہوں کی معافی اس کے نصیب میں تھی شہادت اس کے مقدر ہوچکی تھی اس لیے یہ جواب عطا ہوا۔معنی یہ ہیں تو شہید ہوتے ہی جنت میں پہنچے گا۔

۲؎  یعنی وہ سائل چھوارے کھا رہا تھا اور یہ سوال کررہا تھا جواب عالی سنتے ہی شہادت و جنت کے شوق میں چھوارے پھینک دیئے اسے اب تھوڑی زندگی بھی بوجھ معلوم ہونے لگی۔

۳؎  بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمیر ابن حمام ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت عمیر تو غزوہ بدر میں شہید ہوئے ہیں اور واقعہ غزوہ احد کا ہے۔

3938 -[2]

وَعَن كَعْب بن مالكٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ يَعْنِي غَزْوَةَ تَبُوكَ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ارادہ فرماتے تھے کسی جہاد کا مگر آپ اس کی دوسری طرف کا توریہ فرماتے تھے ۱؎ حتی کہ یہ جہاد یعنی غزوہ تبوک ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت گرمی میں جہاد کیا اور دور دراز سفر کا رخ فرمایا اور بڑے جنگل بہت دشمنوں پر رخ کیا ۲؎  لہذا مسلمانوں کے لیے ان کا معاملہ کھول دیا تاکہ وہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں چنانچہ آپ نے ان سب کو اس طرف کی خبر دیدی جدھر کا ارادہ تھا ۳؎(بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To