Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎ یعنی جب تم کسی بستی میں قولی یا فعلی علامت اسلام دیکھو تو اندھا دھند وہاں قتال نہ کرو بلکہ مسلمان و کافر کی چھانٹ سے کرو کہ کوشش کرو کہ صرف کفار تمہاری تلوار سے مارے جاویں مسلمان زد میں نہ آویں۔(مرقات)لہذا حدیث واضح ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر حربی کفار کے ملک میں کوئی مسجد ہو تو ان پر جہاد ہی نہ ہو۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ میں حملہ کیا وہاں قتال بھی ہوا حالانکہ وہاں تو کعبہ شریف موجود تھا لہذا احد سے مراد ہے کوئی مسلمان۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3936 -[11]

عَن أبي وائلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ فَارِسَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رُسْتَمَ وَمِهْرَانَ فِي مَلَأِ فَارِسَ. سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى. أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا نَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِيَ قَوْمًا يُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا يُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

روایت ہے حضرت ابو وائل سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضرت خالد ابن ولید نے۲؎  فارس والوں کو لکھا۳؎ میں شروع کرتا ہوں مہربان رحم والے اللہ کے نام ے یہ خط ہے خالد ابن ولید کی طرف سے رستم اور مہران کی طرف جو فارس کی جماعت میں ہیں۴؎ اس پر سلام ہو جو ہدایت کی ابتاع کرے اس کے بعد ہم تم کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اگر تم نہ مانو تو جزیہ اپنے ہاتھ سے دو حالانکہ تم ذلیل ہو ۵؎ پھر اگر تم نہ مانو تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے کو ایسا پسند کرتے ہیں جیسے فارس کے لوگ شراب پسندکرتے ہیں ۶؎  اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۷؎(شرح سنہ)

۱؎ آپ کا نام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،اسدی کوفی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے، حضور کی بعثت کے وقت دس سال کے تھے،جلیل القدر صحابہ سے ملاقات ہے جن میں حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود بھی ہیں اور حضرت ابن مسعود کے خاص ساتھیوں سے ہیں،حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی،بڑے ثقہ بزرگ ہیں،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔

۲؎  آپ مشہور صحابی ہیں ،قرشی مخزومی ہیں،زمانہ جاہلیت میں قریش کے سردار تھے،آپ کی والدہ لبابہ صغریٰ ہیں، حضرت ام المؤمنین میمونہ کی بہن     ۲۱ھ؁  میں وفات ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سیف اﷲ کا خطاب دیا،ایک بار زہر ہتھیلی پر رکھ کر کھالیا کوئی اثر نہ ہوا، ایک بار کوئی شخص شراب سے بھری ہوئی مشک لیے جارہا تھا تو فرمایا الٰہی اسے شہد بنادے وہ شہد ہوگئی۔ (مرقات) آپ کا مزار پرانوار دمشق و حلب کے درمیان شہر حمص میں ہے،یہ گنہگار قریب مزار تک پہنچا ہے۔

۳؎ غالبًا یہ خط خلافت فاروقی میں روانہ کیا جب کہ ایران پرمسلمانوں کا حملہ ہونے والا تھا۔خیال رہے کہ ملک فارس عہد فاروقی میں فتح ہوا۔

۴؎ مَلا جماعت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ جگہ کو بھر دیتی ہے اور سرداروں کو بھی کیونکہ انکی ہیبت سے لوگوں کے دل بھرے ہوتے ہیں۔ملا کے معنی ہیں بھرنا خلاء کے مقابل یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔جماعت اور سرداران یعنی یہ خط اس جماعت یا ان سرداروں کی طرف ہے جن میں رستم اور مہران شامل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلام صرف بادشاہ کو بھی دی جائے،کفار کے سرداروں کو بھی اور عام لوگوں کو بھی کیونکہ رستم اور مہران فارس کے بادشاہ نہ تھے قوم کے سردار تھے۔

 



Total Pages: 807

Go To