Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۷؎  خیبر میں اب تک پانچ بلکہ سات قلعے ہیں ایک قلعہ بہت بڑا یہاں یا تو جنس قلعہ مراد ہے یا بڑا قلعہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔فقیر نے وہ قلعہ دیکھا ہے بہت اونچا اور بہت ہی مضبوط ہے،پہاڑی سا معلوم ہوتا ہے،بہت چوڑی دیواریں ہیں اورگرد خندق ہے جو اب تک دیکھنے میں آتی ہے۔

۸؎ یہ جملہ خبر ہے یا دعا یعنی کفار سے خالی ہوگیا یا خالی ہوجائے،رب تعالٰی نے فرمان سچا کر دکھایا اب تک وہاں کفار نہ پہنچ سکے ہیں۔

۹؎ یہ فرمان عالی اس آیت کریمہ سے اقتباس ہے"فَاِذَا نَزَلَ بِسٰحَتِہِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنۡذَرِیۡنَ" یعنی ہمارا ان پر ٹوٹ پڑنا ان پر عذاب الٰہی ہے کہ ہمارے آتے ہی ان کا سویرا بگڑ گیا یعنی ان کا حال خراب ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا دشمن پر حملہ کے وقت نعرہ تکبیر سنت ہے اور قرآن کریم سے اقتباس صحیح طور پر جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔

۱۰؎ یہ حدیث ترمذی،نسائی،ابن ماجہ نے بھی روایت کی۔

3932 -[7]

وَعَن النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تهب الْأَرْوَاح وتحضر الصَّلَاة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہوا ۲؎  جب حضور اول دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ ہوائیں چلتیں اور وقت نماز آجاتا۳؎(بخاری)

۱؎ آپ نعمان ابن عمرو ابن مقرن مزنی ہیں،سوید ابن مقرن کے بھائی،حضرت سوید فتح کے دن قبیلہ مزنیہ کے علمبردار تھے،آپ نے اپنے ساتھ بھائیوں ا ور چارسو ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کی تھی،پھر بصرہ میں قیام پذیر رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے نہاوند کے گورنر تھے،وہاں ہی اکیس     ۲۱ھ؁  میں فوت ہوئے، رضی اللہ عنہ۔

۲؎ جہاد سے مراد جنس جہاد ہے یعنی بہت سے جہادوں میں شریک ہوا ہوں۔

۳؎ ارواح جمع ہے ریح کی چونکہ ریح اصل میں روح تھا واؤ  ی سے بدل گیا تھا اس لیے جمع  ارواح آئی،اریاح بھی آتی ہے مگر بہت کم۔ریاح اور ارواح بہت زیادہ،جمع کی جمع اراویح  یا اراییح ہے۔چونکہ بیچ دوپہری میں کفار سورج کی پوجا کرتے ہیں اس لیے اس وقت نماز نہیں ہے اور حضور اس وقت جہاد بھی نہ کرتے تھے،سورج ڈھلے سورج کی پوجا ختم ہوجاتی ہے،نماز ظہر پڑھنے لگتے ہیں نمازیوں کے لیے دعائیں شروع ہوجاتی ہیں،دوپہری کی شدت جاتی رہتی ہے،قدرے ٹھنڈی ہوا بھی چلنے لگتی ہے اس لیے حضور اس وقت جہاد فرماتے تھے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3933 -[8]

عَن النُّعْمَان بن مقرن قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وينزِلَ النَّصرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱؎  تو آپ اگر شروع دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چل پڑتیں اور نصرت و فتح اترتی ۲؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To