Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3920 -[29]

وَعَن سهلِ بن مُعاذٍ عَن أبيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمُنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنادي فِي النَّاسِ: «أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سہل ابن معاذ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ کیا تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں اور رستے بندکردیئے ۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اعلانچی بھیجا جو لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ جس نے منزل تنگ کی یا راستہ کاٹا تو اس کا کوئی جہاد نہیں ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ آپ کے والد معاذ ابن انس جہنی ہیں،اہل مصر میں آپ کا شمار ہے،تابعی ہیں،سہل ابن معاذ کو یحیی ابن معین نے ضعیف کہا مگر ابن حبان نے آپ کی توثیق کی۔خیال رہے کہ حضرت سہل بھی تابعی ہیں اور آپ کے والد معاذ ابن انس بھی تابعی،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بجائے سہل ابن معاذ کے سعد ابن معاذ ہے وہ غلط ہے کیونکہ حضرت سعد ابن معاذ تو صحابی ہیں اور معاذ ابن انس تابعی۔ (مرقات)

۲؎ اس طرح کہ بعض لوگوں نے راستہ پر اپنا سامان رکھ دیا جس سے راستہ بند ہوگیا اورگزرنے والوں کو تکلیف ہونے لگی اور بعض نے ضرورت سے زیادہ منزل پر جگہ گھیر لی جس سے ساتھیوں پرتنگی ہوگئی۔معلوم ہوا کہ ہر وقت سفروحضر میں ہرمسلمان کو اپنے ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔

۳؎ یعنی اس جہاد کا پورا ثواب نہ ملے گا بعض لوگ مسجد میں گزرگاہ پر نماز شروع کردیتے ہیں جس سے آنے جانے والوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے بعض حضرات صف میں زیادہ جگہ گھیر کر بیٹھتے ہیں انہیں اس حدیث سے سبق لینا چاہیے مسلمانوں کو تکلیف سے بچانا عبادت کا مغز ہے۔

3921 -[30]

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ إِذَا قَدِمَ مِنْ سفرٍ أوَّلُ الليلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اچھا ہے وہ وقت جب مرد اپنے گھر سفر سے آئے وہ شروع رات ملے ۱؎( ابوداؤد)

۱؎ اس حدیث کے چند معنی کے گئے ہیں:ایک یہ کہ سفر سے مراد قریب کا سفر ہے یعنی جب انسان کہیں قریب ہی گیا ہو تو اول شب میں گھر پہنچے آخر رات میں نہ پہنچے اور دن میں پہنچنے کا فرمان دور کے سفر کے لیے تھا۔دوسرے یہ کہ دراز سفر سے اطلاع دے کر جب آئے تو اول رات میں آئے اور بغیر اطلاع آنا ہو تو دن میں آئے۔تیسرے یہ کہ دخل الرجل سے مراد اپنی بیوی کے پاس آنا ہے یعنی صحبت تو مطلب یہ ہوگا کہ مسافر گھر پہنچے دن میں اور اپنی اہلیہ کے پاس جائے اول شب میں تاکہ بقیہ شب اطمینان سے گزرے۔بہرحال یہ حدیث ان گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں جن میں حکم تھا کہ مسافر کو دن میں گھر آنا چاہیے۔(ازمرقات و اشعہ ولمعات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی سفر میں ہوتے پھر رات میں اترتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے ۱؎  اور جب صبح سے کچھ پہلے آرام کرتے تو اپنی کلائی کھڑی فرماتے اور اپنا سر اپنے ہاتھ پر رکھتے ۲؎ (مسلم)

3922 -[31]

عَن أبي قتادةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. رَوَاهُ مُسلم

 



Total Pages: 807

Go To