Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3907 -[16]

وَعَن جَابر قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لِي: «ادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا تو جب ہم مدینہ منورہ آئے تو مجھ سے فرمایا مسجد میں جاؤ ۱؎ وہاں دو رکعت پڑھو(بخاری)

۱؎ مسجد سے مراد یا حضرت جابر کے محلے کی مسجد ہے یا مسجد نبوی شریف دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے مسجد اللہ کا گھر ہے وہاں حاضر ہونا گویا رب تعالٰی سے ملاقات کرنا ہے اس کا استحباب حدیث فعلی سے بھی ثابت ہے اور حدیث قولی سے بھی۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3908 -[17]

عَن صخْرِ بن وَداعةَ الغامِديِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» وَكَانَ إِذا بعثَ سريَّةً أوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ أَوَّلَ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مالُه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت صخر ابن وداعہ غامدی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے الٰہی میری امت کے صبح کے کاموں میں برکتیں دے ۲؎ اور جب کوئی فوج یا لشکر بھیجتے تو شروع دن میں بھیجتے تھے۳؎ اورصخر تاجر تھے تو وہ اپنا مال تجارت اول دن میں بھیجاکرتے تھے تو وہ بڑے امیر ہوگئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۴؎ (ترمذی،ابوداؤد، دارمی) ۵؎

۱؎ آپ کا نام صخر ابن عمرو ابن عبداللہ ابن کعب ازدی ہے،آپ صحابی ہیں،طائف میں قیام رہا،شمار اہل حجاز سے ہے۔(مرقات اشعہ)

۲؎ یعنی میری امت کے تمام ان دینی و دنیاوی کاموں میں برکت دے جو وہ صبح سویرے کیا کرے جیسے سفر طلب علم تجارت وغیرہ۔

۳؎ یعنی حضور کی دعا وہ تھی جو ابھی بیان ہوئی اور عمل یہ تھا لہذا حضور کے دعاوعمل سے یہ وقت برکت والا ہے۔

۴؎ یعنی صحابہ کا تجربہ بھی اس کے متعلق ہوچکا ہے کہ وہ حضرات اس سنت پر عمل کی برکت سے بہت فائدے اٹھا چکے ہیں۔فقیر نے بھی تجربہ کیا کہ صبح سویرے کاموں میں بہت برکت ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو طالب علم مغرب و عشاء کے دوران اور فجر کے وقت محنت کرے پھر عالم نہ بنے تو تعجب ہے اور جو طالب علم ان دو وقتوں میں محنت نہ کرے اور عالم بن جاوے تو بھی حیرت ہے۔

۵؎ ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ روایت کی الٰہی میری امت کے جمعرات کے دن صبح کے وقت کے کاموں میں برکت دے۔(مرقات)

3909 -[18]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطوَى بالليلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم تاریکی شب میں سفر کیا کرو ۱؎ کیونکہ رات میں زمین لپٹ جاتی ہے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  اب بھی اہل عرب رات میں سفر زیادہ کرتے ہیں،سمندری جہاز رات میں تیز چلائے جاتے ہیں،تمام حجاج سے بعد نماز عشاء کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آرام کرو جیساکہ ہم نے تجربہ کیا۔دلجہ رات کی اندھیری کو کہتے ہیں اسی سے ہے ادلاج۔

۲؎ اس طرح کہ رات کا مسافر یہ ہی سمجھتا ہے کہ ابھی میں نے سفرکم کیا ہے مگر ہوجاتا ہے زیادہ۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ رات میں بھی سفر کیا کرو صرف دن کے سفر پر قناعت نہ کیا کرو، بعض احادیث میں ہے کہ اول دن اور اول رات میں سفر کرو۔(اشعہ)

3910 -[19]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكبٌ». رَوَاهُ مالكٌ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ۲؎ اور تین سوار صحیح سوار ہیں ۳؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 807

Go To