Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب آداب السفر

باب سفر کے آداب و طریقے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

 ۱؎ چونکہ جہاد میں اکثر سفر بھی کرنا پڑتا ہے اس لیے مؤلف رحمۃ اﷲ علیہ نے جہاد کے بیان میں سفر کے احکام بھی بیان کیے۔آداب جمع ہے ادب کی بمعنی طریقہ پسندیدہ۔سفر مقابل ہے حضر کا اس کے لغوی معنی ہیں ظاہر ہونا روشن ہونا اس لیے صبح کے اجالے کو اسفار کہا جاتا ہے،چونکہ سفر کے ذریعہ دوسرے شہروں ملکوں کے حالات ظاہر ہوتے ہیں اس لیے اسے سفر کہتے ہیں۔آداب سے مراد مطلقًا طریقے سفر ہیں خواہ سفر سے پہلے ہوں یا سفر کے دوران میں یا سفر کے بعد اور سفر سے مراد ہر سفر ہے خواہ جہاد کے لیے ہو یا حج کے لیے یا کسی دنیاوی جائز کاروبار کے لیے۔سفر فرض بھی ہے،واجب بھی،مستحب،مکروہ بھی اور حرام بھی جیسا  سفر کا مقصد ویسا سفر کا حکم۔چنانچہ فرض حج کے لیے سفرکرنا فرض ہے اور چوری ڈکیتی کے لیے سفر کرنا حرام۔اس کی تفصیل ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں ملاحظہ کریں۔

3892 -[1]

عَن كَعْب بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جمعرات کے دن غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے ۲؎ اور آپ جمعرات کے دن نکلنا پسند فرماتے تھے۳؎(بخاری)

۱؎  آپ وہ ہی کعب ابن مالک ہیں جو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے تھے جس پر آپ کا بائیکاٹ کیا گیا تھا،پھر سورۂ توبہ میں آپ کی توبہ قبول ہونے بائیکاٹ کھلوانے کا ذکر ہے،بڑی ہی شان کے مالک ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو صادقین میں سے فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو حکم دیا"کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔

۲؎ تبوک غیرمنصرف ہے علمیۃ اور وزن فعل کی وجہ سے۔بوك سے بنا ہے بمعنی پانی کا جوش مارنا لکڑی وغیرہ رہنے کی وجہ سے،شام کے ایک شہر کا نام تبوک ہے۔یہ فقیر تبوک کے اوپر سے ہوائی جہاز سے گزرا،مدینہ منورہ سے خیبر ایک سو ساٹھ میل ہے اور خیبر سے پانچ سو میل تبوک ہے،اس زمانہ میں مدینہ منورہ سے تبوک ایک ماہ کے فاصلہ پر تھا،غزوہ تبوک     ۹ھ ؁ میں ہوا اور یہ حضور انور کا آخری غزوہ ہے۔(ازمرقات) فقیر نے خیبر کی زیارات کی ہیں اب حجاز کی سرحد مقام مان تک ہے،مان تبوک سے تقریبًا دو سو میل ہے اور مان سے مقا م عمان تین سو میل ہے،عمان اردن کا دار الخلافہ ہے،عمان سے ۹۸ میل بیت المقدس ہے جسے اب قدس کہتے ہیں بیت المقدس فلسطین میں ہے۔

۳؎ یا تو سفر جہاد کے لیے جمعرات پسند فرماتے تھے یا ہر سفر کے لیے۔خیال رہے کہ چند وجوہ سےجمعرات کو سفر کے لیے پسند فرمایا گیا:ایک یہ کہ جمعرات مبارک دن ہے کہ اس میں بندوں کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوتے ہیں،بہتر یہ ہے کہ عملی حج کی ابتداء اس دن سے ہو۔دوسرے یہ کہ جمعرات ہفتہ کا آخری دن ہے۔تیسرے یہ کہ جمعرات جمعہ کا پڑوسی ہے کہ اس کی آمد کی خبر دیتا ہے۔چوتھے یہ کہ جمعرات کو عربی میں خمیس کہتے ہیں تو اس دن روانگی میں نیک فال ہے۔پانچویں یہ کہ جمعرات کو خمیس کہتے ہیں جو خمیس بمعنی پانچ سے بنا ہے اور غنیمت سے اللہ رسول کے لیے خمس ہی نکالا جاتا ہے اللہ تعالٰی خمیس کی برکت سے خمس والی



Total Pages: 807

Go To