Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثالث

تیسری فصل

3890 -[30]

عَن أنسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ من الْخَيل. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بیویوں کے بعد گھوڑے سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہ تھی ۱؎(نسائی)

۱؎  گھوڑے سے مراد جہاد کے لیے تیار کیے ہوئے گھوڑے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں گھوڑوں سے مراد خود جہاد ہی ہے۔خیال رہے کہ اپنی بیوی سے محبت کمال تقویٰ کی دلیل ہے اور جہاد سے محبت کمال ایمان کی دلیل،اپنی بیوی سے وہ ہی محبت کرے گا جو غیرعورت کی طرف مائل نہ ہوگا اور جہاد سے اس کو محبت ہوگی جسے ترقی اسلام خدمت خلق کا جذبہ میسر ہوگا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو چار ہزار مردوں کی قوت مردمی عطا ہوئی تھی پھر نو بیویوں پر صبر فرمانا یہ حضور کا کمال تھا۔

3891 -[31]

وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلًا بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ قَالَ: «مَا هَذِهِ؟ أَلْقِهَا وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّهَا يُؤَيِّدُ اللَّهُ لَكُمْ بِهَا فِي الدِّينِ وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي البلادِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ شریف میں عربی کمان تھی ۱؎  تو ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں فارسی کی کمان ہے ۲؎  فرمایا یہ کیا ہے اسے پھینک دو اور اسے ان جیسی چیزوں کو اختیار کرو ۳؎  اور کامل ہے نیزہ۴؎  یہ ہیں وہ چیزیں کہ اللہ تعالٰی ان کے ذریعے دین کو قوت دے گا اور تم کو شہروں میں قبضہ دے گا ۵؎(ابن ماجہ)

۱؎  یعنی ملک عرب کی بنی ہوئی عربی گھوڑا بمعنی تلوار عربی کمانیں بہت اعلیٰ درجہ کی ہوتی تھیں۔

۲؎  فارسی کمان سے مراد عجمی کمان ہے۔عرب کے پانچ صوبوں کا نام ہے حجاز،عراق،نجد،یمن،بحرین ان پانچ صوبوں کے سوا تمام ممالک عجم ہیں۔

۳؎  یعنی عربی تلواریں،عربی ڈھالیں،عربی سامان جنگ استعمال کرو کہ یہ اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں۔

۴؎  قنا جمع ہے قناۃ کی بمعنی نیزہ اور رماح کے معنی بھی ہیں نیزہ،تو یہ اضافت اپنی نفس کی طرف ہے جس سے کمال کے معنی پیدا ہوئے جیسا کہا جاتا ہے یہ مردوں کا مرد ہے یعنی کامل و بہادر مرد ہے ایسے اس کے معنی ہوئے نیزوں کا نیزہ کامل نیزہ اس سے مراد عربی نیزہ ہے۔

۵؎  یعنی ان شاءالله تم لوگ عربی ہتھیاروں کے ذریعہ بہت سے ملک فتح کرو گے،حضور کا یہ وعدہ سچا ہوا کہ صحابہ کرام نے ان ہی تلواروں،تیروں کمانوں کے ذریعہ قیصروکسریٰ کے ملک فتح کیے شام و روم وغیرہ پر قبضے کیے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سواء عربی نیزوں وتلواروں کے کبھی کسی کا کوئی ہتھیار نہ استعمال کرنا یہ حکم اسی زمانہ کے لیے ہے۔


 



Total Pages: 807

Go To