Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۵؎ چونکہ ضمار کیا ہوا گھوڑا بہت قوی ہوتا ہے اس لیے اس کی ڈور کا فاصلہ زیادہ رکھا گیا اور بغیر ضمار والا گھوڑا اس سے ہلکا اس لیے اس کا فاصلہ تھوڑا تجویز ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ گھوڑدوڑ کرانا جائز بلکہ سنت ہے۔ بشرطیکہ اس پر مالی ہار جیت نہ ہو ورنہ پھر جوا ہے اور حرام ہے۔

3871 -[11]

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وضَعه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ۱؎ وہ کبھی دوڑ میں پیچھے نہ رہتی تھی ۲؎  ایک بدوی اپنے چھوٹے اونٹ پر آیا ۳؎ تو وہ اس سے آگے نکل گیا یہ مسلمانوں پر گراں گزارا ۴؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ کے ذمہ قدرت پر لازم ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اونچی نہ جائے مگر اسے کبھی پست فرمائے ۵؎(بخاری)

۱؎ عضباء عین کے فتحہ ضاد کے سکون سے بمعنی کان کٹی یا کان چری اس اونٹنی کے کان کاٹے یا چیرے نہ گئے تھے بلکہ وہ پیدائشی ایسی ہی تھی یا تو یہ وہ ہی اونٹنی تھی جس کا نام قصواء تھا تو اس کا نام قصواء اور لقب عضباء تھا یا یہ دوسری اونٹنی ہے قصواء اور تھی۔ والله اعلم!

۲؎ یعنی ایسی تیز رفتار تھی کہ دوڑ میں کسی اونٹ سے کبھی پیچھے نہ رہی تھی۔

۳؎  قعود کے معنی ہیں بیٹھنا،اصطلاحًا قعود اس اونٹ کو کہتے ہیں جو سواری کے لائق ہوجائے کہ اس پر سوار بیٹھ سکے دو سال کی عمر سے لے کر چھ سال کی عمر تک اونٹ قعود کہلاتا ہے پھر اسے جمل کہا جاتا ہے اونٹ کی عمروں کے بہت نام ہیں۔

۴؎  یہ ناگواری اور طبیعت پرگرانی طبعی تھی کہ صحابہ کرام کو یہ پسند نہ تھا کہ کوئی اونٹ ہمارے نبی کے اونٹ سے آگے نکل جائے۔

۵؎ یعنی اللہ تعالٰی کی عادت کریمہ یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں ہمیشہ سب سے اونچی رہتی ہو اسے کبھی کسی سے نیچا بھی کرادے تاکہ فخر ٹوٹ جائے رب تعالٰی کی کبریائی پر نظر رہے اسی قانون کے مطابق یہ اونٹنی آج پیچھے رہ گئی اس پر رنج نہ کرو۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3872 -[12]

عَن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ فَارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَبُو دَاوُد والدارمي:«ومَنْ تركَ الرَّميَ بعدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهُ نِعْمَةٌ تَرَكَهَا» . أَوْ قَالَ: «كفرها»

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی ایک تیر کے ذریعہ تین شخصوں کو جنت میں داخل کرے گا ۱؎  اس کے بنانے والے کو جب کہ اپنی صنعت میں بھلائی کی نیت کرے ۲؎  اور تیر مارنے والے کو۳؎  اور تیر دینے والے کو ۴؎ تیر چلاؤ اور گھوڑے کی سواری کرو ۵؎  اور تمہارا تیر چلانا گھوڑے کی سواری سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎  ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے باطل ہے ۷؎  سوا اس کے کہ اپنی کمان سے تیر اندازی کرنے کے اور اپنے گھوڑے کو سکھانے کے اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے کہ یہ کھیل برحق ہیں ۸؎  (ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد، دارمی نے یہ اور زیادتی کی کہ جو تیر اندازی سیکھ کر بے رغبتی سے اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت تھی جسے چھوڑ دیا فرمایا اس کی ناشکری کی ۹؎

 



Total Pages: 807

Go To