Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

3819 -[33]

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے میری امت میں ایک گروہ حق پر جہاد کرتا رہے گا ۱؎ ان پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی رکھے ۲؎ حتی کہ اس کے آخری لوگ مسیح دجال سے جنگ کریں گے ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎  یعنی اسلام میں جہاد ہوتا رہے گا،کبھی منسوخ نہ ہوگا جو جہاد کا حکم منسوخ مانے وہ کافر ہے جیسے وہ جو نماز یا زکوۃ و حج وغیرہ کو منسوخ ماننے والا کافر ہے۔

۲؎ ناوی بنا ہے مناوات سے بمعنی معادات و دشمنی کرنا،نوء سے بنا بمعنی اٹھنا،یہاں مراد ہے کسی کے مقابلہ کے لیے اٹھنا،میدان میں آنا،اس میں غیبی خبر ہے کہ اﷲ تعالٰی مجاہد مسلمانوں کو کفار پر غلبہ دیتا رہے گا،اگر کبھی مغلوب ہوجاؤ تو یہ مغلوبیت اتفاقی ہوگی یا اپنی کسی غلطی کی بنا پر۔

۳؎ یہاں آخری لوگ سے مراد حضرت امام مہدی و جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مسلمان ہیں۔دجال کو مسیح اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ ممسوح العین کانا ہوگا۔یہ صفت مشبہ بمعنی مفعول ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ مسیح یعنی چھوکر لاعلاج بیماروں کو اچھا کردیتے تھے۔وہاں صفت مشبہ بمعنی فاعل ہے ۔خیال رہے کہ دجال سے اس جہاد کے بعد دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تک یہ ہی حال رہے گا آپ کی وفات کے بعد پھر کفر شروع ہوگا حتی کہ ایک ایسی ہوا چلے گی کہ ہر مؤمن کو وفات دے دے گی،صرف کفار ہی زمین پر رہ جائیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔(مرقات)

3820 -[34]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جو تو نہ جہاد کرے اور نہ غازی کو سامان دے یا غازی کے گھر میں اس کا بھلائی سے نائب نہ بنے ۱؎  اسے اﷲ تعالٰی قیامت سے پہلے سخت حادثہ پہنچائے گا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی جو شخص یا جو لوگ ان تینوں نعمتوں سے محروم رہے نہ جہاد کرے نہ مجاہد کو سامان دے نہ مجاہد کے بیوی،بچوں کی خدمت کرے۔غالبًا روئے سخن ان لوگوں سے ہے جن کے زمانہ میں جہاد ہو اور وہ یہ تینوں کام نہ کرے اور اگر کسی کو جہاد دیکھنا نصیب ہی نہ ہو وہ اس حکم سے علیٰحدہ رہے۔

۲؎  قارعہ بنا ہے قرع سے بمعنی کھڑکانا،ٹھوکنا،اب پریشان کن مصیبت کو بھی قارعہ کہتے ہیں کہ وہ دل کو کھڑکا دیتی ہے اسی لیے قیامت کو قارعہ کہا جاتا ہے"اَلْقَارِعَۃُ  مَا الْقَارِعَۃُ"کہ وہ مخلوق کو پریشان کر دے گی جس سے عام لوگوں کے حواس جاتے رہیں گے۔

3821 -[35]

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا کفار سے جہاد کرو ۱؎  اپنے مالوں سے اپنی جانوں سے اپنی زبانوں سے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی،دارمی)

 



Total Pages: 807

Go To