Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب اعلان النکاح و الخطبۃ و الشرط

نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱ ؎ خطبہ خ کے پیش سے نثر والا کلام جس میں حمد و نعمت و عظ و نصیحت ہو۔نکاح میں ایجاب و قبول سے پہلے خطبہ پڑھنا سنت ہے، امام شافعی کے ہاں خرید و فروخت کرایہ وغیرہ تمام جائز عقود میں خطبہ سنت ہے۔(اشعہ)خطبہ اعلان پر معطوف ہے اور ہوسکتا ہے کہ نکاح پر معطوف ہو یعنی نکاح کا اعلان اور خطبہ کا اعلان اور ہوسکتا ہے کہ خطبہ خ کے کسرہ سے ہو بمعنی پیغام نکاح۔خیال رہے کہ نکاح کا اعلان سنت ہے،خواہ اس طرح اعلان ہو کہ نکاح جامع مسجد میں بعد نماز جمعہ علانیہ ہو یا گولے سے یا تاشہ و دف بجا کر۔حق یہ ہے کہ دف و تاشہ بجانا عقد کے وقت،کسی کی آمد کی اطلاع پر،نکاح کے وقت مستحب،بلاوجہ ممنوع ہے۔شرط سے مراد نکاح میں شرائط لگالیناہے،جیسے تفویض طلاق کی شرط یا خاوند کے اپنے سسرال میں رہنے کی شرط وغیرہ۔شرط فاسد سے بیع تو فاسد ہوجاتی ہے مگر نکاح فاسد نہیں ہوتا،شعیب علیہ السلام نے جو موسیٰ علیہ السلام سے شرط لگائی تھی کہ تم آٹھ یا دس سال تک میرا کام کرو یہ شرط نکاح سے پہلی تھی۔

3140 -[1]

عَن الرّبيع بنت معوذ بن عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كمجلسك مني فَجعلت جويرات لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ: «دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ عفراء سے ۱ ؎ فرماتی ہیں جب میری رخصت کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو ویسے ہی حضور میرے بستر پر بیٹھ گئے ۲؎ تو ہماری بچیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ دادے جو بدر کے دن شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ کہنے لگیں ۳؎ کہ جب ان میں سے ایک نے یہ شعر کہا کہ ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں ۴؎ تو حضور نے فرمایا یہ چھوڑو ۵؎ وہ ہی کہو جو پہلے کہتی تھیں ۶؎(بخاری)

۱؎ عفراء معوذ کی والدہ کا نام ہے صحابیہ انصاریہ ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئیں بہت دراز عمر پائی بڑے درجہ والی بی بی ہیں ربیع کی دادی ہیں۔

۲؎ یہ خطا ب خالد ابن ذکوان سے ہے جو ربیع سے روایت کررہے ہیں یعنی جیسے تم میرے بستر پر میرے پاس بیٹھے ہو ایسے ہی حضور میرے پاس میرے بستر پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ اس وقت باپردہ ہوں گی اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوگا، کیونکہ رخصت کا دن تھا اور اگر بے پردہ بیٹھی ہوں تو یا یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے یا حضور کی خصوصیات سے ہے کہ عورتوں پر آپ سے پردہ نہیں بہرحال حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔(مرقات و لمعات)

۳؎ یہ بچیاں نابالغہ اور غیر مراہقہ تھیں اور صرف دف بجا کر گاتی تھیں جھانج وغیرہ کوئی باجہ نہ تھا اشعار گندے نہ تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ کناح یا رخصت پر ننھی بچیوں کا ایسا گانا درست ہے

 



Total Pages: 807

Go To