Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ یعنی جب تو پوری پوری احتیاط کرلے مگر قضائے الٰہی سے تجھے نقصان ہوجائے تب تو یہ کہہ کر توکل کا اظہار کر تب تیرا توکل درست ہے۔

3785 -[28]

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وزادَ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ: ثمَّ خَلّى عَنهُ

روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو کسی تہمت میں قید کیا ۲؎ (ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے یہ زیادتی کی پھر اسے چھوڑ دیا ۳؎

۱؎ آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حمید قشیری ہیں،تابعین میں سے ہیں،اکثر محدثین آپ کو ثقہ کہتے ہیں مگر مسلم،بخاری نے ان کی روایت اپنی کتاب میں نہ لی،ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی روایت منکر نہیں۔ (مرقات واشعہ)بعض نے آپ کو صحابی مانا مگر یہ صحیح نہیں۔

۲؎ اس طرح کہ کسی نے جھوٹی گواہی دی،اس کا جھوٹ ظاہر ہوجانے پر اسے قید کردیا۔(مرقات)یا کسی نے اس پر قرض کا دعویٰ کیا یا کسی اور جرم کا الزام لگایا تو حضور نے مدعیٰ علیہ کو تحقیق کے دوران میں قید کردیا،پھر جرم ثابت نہ ہونے پر اسے چھوڑ دیا۔ (مرقات و اشعہ)

۳؎ یا تو جھوٹے گواہ کو سزاءً کچھ روز قید کرکے چھوڑ دیا یا جرم ثابت نہ ہونے پر مدعیٰ علیہ کوچھوڑ دیا۔معلوم ہوا کہ قید کرنا بھی احکام شرعیہ سے ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3786 -[29]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قطعی حکم دیا کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بٹھائے جائیں ۱؎(ابو داؤد)

۱؎ اس زمانہ میں حکام مسندوں پر بیٹھے تھے اس لیے فریقین کو ان کے سامنے بٹھایا جاتا تھا،اب حکام کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے فریقین اور انکے وکیل سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ حاکم فریقین میں برابری کرے،نشست اورگفتگو دونوں کی یکساں رکھے،کسی ایک کی طرف میلا ن نہ کرے کہ اس سے دوسرے فریق کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ حاکم کے لیے سب سے ضروری چیز فریقین میں برابری برتنا ہے۔(مرقات)یہ بہت مشکل چیز ہے کبھی ایک فریق اعلیٰ منصب والا ہوتا ہے دوسرا فریق معمولی حیثیت کا۔ حاکم اگر اعلیٰ منصب والے کو اپنے پاس بٹھائے دوسرے کوسامنے کھڑا کرے تو یہ جرم ہے اس سے ددسرے فریق کا دل ٹوٹے گا۔خلفاءاسلام کی تواریخ سے ایسے واقعات کا پتہ لگتا ہے کہ معمولی رعایا نے بادشاہ کے خلاف دعویٰ کردیا،قاضی نے سلطان کو طلب کیا تو اسے اور مدعی کو اپنے سامنے ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا دوران مقدمہ میں بادشاہ کا کوئی احترام نہ کیا۔


 



Total Pages: 807

Go To