Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کا زمانہ نبوت تا قیامت ابدالاباد تک ہے۔جس زمانہ میں لوگ حضور کو دیکھ کر صحابی بنتے تھے وہ زمانہ محدود ہے ورنہ آج بھی زمانہ حضور کا ہے اور ہمیشہ زمانہ حضور کا ہی رہے گا۔

لطیفہ: ایک صاحب نے بدعت کی تعریف کی کہ بدعت وہ ہے کہ جو حضور کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوتو ایک عاشق دل شاد نے کہا آج کس کا زمانہ ہے،آج بھی انہیں کا رواج انہیں کا زمانہ ہے،ہم آج کلمہ پڑھتے ہیں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم،محمد اﷲ کے رسول ہیں اگر یہ زمانہ ان کا نہیں تو"ہیں" کسے کہہ رہے ہو جو ہمارے رسول بھی زندہ ہیں ان کی رسالت بھی قائم دائم ہے۔

۲؎ یعنی تابعین اور تبع تابعین۔خیال رہے کہ صحابی وہ مؤمن انسان ہیں جنہوں نے حضور انور کو ایک نگاہ دیکھا یا ایک آن کے لیے صحبت پائی مگر تابعی وہ لوگ جنہوں نے صحابی کی مستقل صحبت پائی ہو،ایسے ہی تبع تابعین وہ جنہوں نے تابعی کی صحبت پائی ان کا فیض حاصل کیا ہو لہذا امام ابوحنیفہ تابعی ہیں مگر یزید تابعی نہیں کہ اگرچہ وہ صحابی کا بیٹا ہے مگر فیض صحابہ حاصل نہ کرسکا۔اسی لیے یہاں مرقات نے یلونھم کے معنے کیے ای یقربونھم فی الخیر کالتابعین جو صحابہ سے خیر میں قریب ہوں۔

 ۳؎ یعنی جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسموں پر دلیر ہوں گے پرواہ  نہ کریں گے کہ اپنی گواہی کی قسم سے ثابت کریں یا جھوٹی قسم کو جھوٹی گواہی سے ثابت کریں دونوں پر حریص ہوں گے۔اس حدیث کی بنا پرحضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ جو گواہ قسم کھاکر گواہی دے یا برعکس تو اس کی گواہی رد ہے مگر جمہور آئمہ فرماتے ہیں کہ گواہی رد نہ ہوگی،اس کی تحقیق مرقات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ فرمایئے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ صحابہ تمام زمانوں سے افضل ہے،پھر جس قدر زمانہ حضور سے دور ہوجائے گا خیریت کم ہوجاتی جائے گی۔

3768 -[11]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ فَأَسْرَعُوا فَأَمْرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي اليَمينِ أيُّهُمْ يحْلِفُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قوم پر قسم پیش فرمائی تو انہوں نے جلد بازی کی تو حضور نے حکم دیا کہ قسم میں ان کے درمیان قرعہ ڈالاجائے کہ کون قسم کھائے ۱؎ (بخاری)

۱؎  اس حدیث کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ ایک شخص نے کسی جماعت کے خلاف دعویٰ کیا اس کے پاس گواہ نہیں تھے،قسم اس جماعت پر آئی ان میں سے ہر شخص نے پہلے قسم کھانے کی کوشش کی تب قرعہ ڈالا مگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخصوں نے کسی چیز کا دعویٰ کیا جو کسی تیسرے کے قبضہ میں ہے،وہ قابض کہتا ہے کہ مجھے پتہ نہیں ان میں سے کس کی ہے ان دونوں مدعیوں کے پاس گواہی نہیں یا دونوں کے پاس گواہی ہے،حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قرعہ اندازی کرکے جسکے نام پر قرعہ آئے اس سے قسم لی جائے اسی کو دے دی جائے،امام شافعی کے ہاں اس تیسرے کے قبضہ میں چھوڑ دی جائے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو نصف دے دی جائے۔واﷲ اعلم!(لمعات،اشعہ،مرقات)قرعہ یا قسم ان پر نہ ہوگی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3769 -[12]

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہی مدعی پر ہے اور قسم مدعیٰ علیہ پر ۱؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To