Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الاقضیۃ و الشھادات

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اقضیہ جمع ہے قضا کی،قضا کے لغوی معنے ہیں مضبوط کرنا اور فارغ ہونا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَقَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ"یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو مضبوط حکم دیا اور فرماتاہے:"وَلْیَقْضُوۡا تَفَثَہُمْ"اور اداء قرض کو قضائے دینی کہتے ہیں۔ شریعت میں قضا وہ مقدمہ ہے جو حاکم کی کچہری میں فیصلہ کے لیے پیش کیا جائے یا خود فیصلہ،نیز بمعنی فیصلہ ہے۔شہادات جمع ہے شہادۃ کی،شہادت کے معنے ہیں حاضر ہونا،مشاہدہ کرنا آنکھ سے یا دل سے۔ شریعت میں کسی دوسرے کے حق کی کسی پر خبر دینا شہادت،دوسرے پر اپنے حق کی خبر دینا دعویٰ ہے،اپنے پر دوسرے کے حق کی خبر دینا اقرار ہے اور کسی کے کسی پر حق کی خبر دینا شہادت یعنی گواہی ہے،چونکہ حاکم کے فیصلے اور گواہوں کی گواہی بہت سی قسم کی ہوتی ہے اس لیے یہاں دونوں کو جمع فرمایا یعنی فیصلوں اور گواہیوں کا بیان۔

3758 -[1]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي «شَرْحِهِ لِلنَّوَوِيِّ» أَنَّهُ قَالَ: وَجَاءَ فِي رِوَايَةِ «الْبَيْهَقِيِّ» بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: «لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ على المدَّعي واليمينَ على مَنْ أنكر»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں پر دے دیا جائے ۱؎ تو لوگ انسانوں کے خونوں ان کے مالوں کا دعویٰ کردیں ۲؎ لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے ۳؎(مسلم)اور نووی شرح مسلم میں ہے انہوں نے فرمایا کہ بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح اسناد سے بروایت ابن عباس مرفوعًا یہ زیادتی منقول ہے کہ لیکن گواہ مدعی پر ہے اور قسم انکاری پر۴؎

۱؎ اگر بفرض محال قانون اسلام یہ ہوجائے کہ ہر ایک کے دعویٰ پر بغیر گواہی اور بغیر اقرار مدعیٰ علیہ فیصلہ ہوجایا کرے۔

۲؎ یعنی ہر ایک کہہ دیا کرے کہ فلاں پر میرا اتنا قرض ہے اور فلاں نے میرے عزیز کو قتل کردیا ہے اس   کاقصاص یا دیت دلوائی جائے اس پر ملک کا نظام ہی بگڑ جائے۔

۳؎ یہ فرمان عالی مجمل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اگر مدعی کے پاس گواہی موجود نہ ہو اور مدعیٰ علیہ اس کے دعویٰ کا اقراری نہ ہو انکاری ہو اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو قسم مدعیٰ علیہ پر ہے،یہ تینوں قیدیں خیال میں رہنی چاہئیں۔چونکہ مدعی پر گواہی پیش کرنے کا وجوب بالکل ظاہر تھا اس لیے اس کا ذکر نہ فرمایا۔(اشعہ) اگر قاضی نے مدعی کے مطالبہ کے بغیر مدعیٰ علیہ سے قسم لے لی تو مدعی پھر قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔اس قانون سے حدود یعنی شرعی مقررہ سزائیں اور لعان وغیرہ علیٰحدہ ہیں کہ ان میں گواہی وقسم اس طرح نہیں،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To