Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

ہجرت دونوں سے مشرف ہورہے ہو،حضور فرماتے ہیں کہ دوسرے لوگ تو اسلام لائے مگر عمرو ایمان لائے،دوسری روایت میں ہے کہ عمرو صالحین قریش میں سے ہیں،سنہ کے متعلق محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ واقعہ       ۵ھ؁ میں ہوا یا      ۸ھ؁ میں۔(اشعہ)

۷؎  یعنی اﷲ رسول کو راضی کرنے کے لیے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور کا نام رب تعالٰی کا نام کے ساتھ ملانا شرک نہیں ایمان ہے۔دوسرے یہ کہ عبادت میں رب تعالٰی کی رضا کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رضا کی نیت کرنا شرک یا ریا نہیں بلکہ اس سے عبادت کی تکمیل ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"۔تیسرے یہ کہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہونا رب تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوجانا ہے کہ مدینہ منورہ کے مہاجر آتے تھے حضور کے پاس اور عرض کرتے تھے ﷲورسولہ،قرآن کریم فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ سبحان اﷲ! کیسا پیارا کلام عرض کیا۔

۸؎  یعنی اس مال کے قبول سے تمہارے ثواب میں کمی نہ ہوگی یہ تو رب تعالٰی کی نعمت ہے۔خیال رہے کہ مرد صالح وہ ہے جو نیکی پہچانے اور کرے اور مال صالح وہ ہے جو اچھے راستہ آئے اور اچھی راہ جائے یعنی حلال کمائی بھلائی میں خرچ ہو،اﷲ تعالٰی نصیب فرمائے۔

۹؎ مطلب وہ ہی ہے صرف ترتیب بیان میں فرق ہے۔خیال رہے کہ خراب پیٹرول مشین خراب کردیتا ہے اسی طرح خراب غذا انسان کے دل و دماغ،خیال،نیت سب کو خراب کردیتی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3757 -[13]

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَفَعَ لِأَحَدٍ شَفَاعَةً فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی شخص کی کچھ سفارش کردے ۱؎  پھر اسے اس سفارش پر کچھ ہدیہ دیا جائے ۲؎  وہ اسے قبول کرلے تو وہ سود کے دروازوں سے بڑا دروازہ پر آگیا ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎  سلطان یا حکام کے پاس مگر سفارش حق کے لیے ہو ظلم کے لیے نہ ہو۔

۲؎  یعنی مقدمہ والا یا حاجت مند اسے اس سفارش کی بنا پر کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بطور ہدیہ دے اور یہ اسے قبول کرے،سفارش کی بنا کی قید یاد رکھنا چاہیے۔

۳؎  یعنی یہ بھی رشوت ہےاور رشوت کا گناہ سود کے گناہ کی طرح ہے کہ سود خور کو اﷲ رسول سے جنگ کرنے کا اعلان فرمایا گیا ہے "فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔


 



Total Pages: 807

Go To