Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

میں پھنس گئے تو دین ختم ہوجائے گا سوائے حضرت عثمان کے تمام خلفاء راشدین نےتنخواہیں لی ہیں بلکہ غریب طلباء دین اور غریب مدرسین کو زکوۃ دینے کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے،فرماتاہے:"اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ضَرْبًا"۔

۳؎  یہاں مرقات نے فرمایا کہ جناب صدیق اکبر نے اپنی تنخواہ حسب ذیل مقرر فرمائی جو آپ بیت المال سے لیتے تھے۔مسلمانو سنو اورغورکرو! دو مدغلہ،تھوڑا تیل،کچھ سالن،گرمیوں میں ایک چادر اور ایک تہبند،سردیوں میں ایک پشمینہ کی پوستین گویا اس زمانہ کے لحاظ سے چھ سات روپیہ ماہوار کا سامان،کیوں نہ ہوتا کہ اس سلطان کونین سید الزاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں جن کی شان یہ ہے۔شعر

بوریا ممنون خواب راحتش        تاج کسرے زیر پائے امتش

اس فقیر نے حضرت عمروصدیق اکبر کے مکانات دیکھے تھے جو اب گرادیئے گئے وہ ایسے مکانات تھے کہ آج غریب سے غریب آدمی کا مکان بھی ان سے بڑا ہوگا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3748 -[4]

عَن بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت بریدہ  ۱؎  سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جسے ہم کسی کام پر لگادیں پھر ہم اسے معاوضہ دے دیں تو اس کے بعد جو کچھ لے گا وہ خیانت ہے۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  آپ بریدہ ابن خصیب اسلمی ہیں،بدر سے پہلے ایمان لائے مگر بدر میں حاضر نہ ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا،پھر بصرہ میں پھر خراسان میں غازی ہوکر رہے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں    ۶۲ھ؁ میں وفات ہوئی۔

۲؎  یعنی اپنی تنخواہ کے علاوہ جو کچھ چھپا کرلے گا وہ چوری و خیانت ہوگا۔

3749 -[5]

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فعملني. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تو حضور نے مجھے اجرت دی ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎  معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے حکام و ملازمین کو تنخواہیں دیتے تھے۔اس سے وہ ہی فائدے حاصل ہوا جو ابھی عرض کیا گیا کہ دینی خدمات پر معاوضہ لینا دینا درست ہے بشرطیکہ وہ کام ضروری ہو۔

3750 -[6]

وَعَن مُعَاذٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ: «أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّهُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لهَذَا دعوتك فَامْضِ لعملك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا جب میں چل دیا تو میرے پیچھے بلانے والے کو بھیجا تو میں لوٹایا گیا ۱؎  فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ میں نے تمہیں کیوں بلایا کوئی چیز میری اجازت کے بغیر نہ لینا کہ وہ خیانت ہے۲؎  جو خیانت کرے گا تو قیامت کے دن خیانت کا مال لائے گا تمہیں اس لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ ۳؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To