Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کام لے،اگر چار رکعت میں چار طرف اس کی رائے ہوئی اور اس نے ہر رکعت ایک طرف پڑھی تو اگرچہ قبلہ ایک ہی طرف تھا مگر چاروں رکعتیں درست ہوگئیں اور اس کو نماز کا ثواب یقینًا مل گیا۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں دیکھئے۔

۴؎  یہ حدیث احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ اور نسائی نے بروایت حضرت عمرو ابن عاص نقل فرمائی،احمد نے حضرت ابوہریرہ سے بھی نقل کی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3733 -[3]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا ۱؎  تو وہ بغیر چھری ذبح کردیا گیا۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎  اس طرح کہ اس نے کوشش و جانفشانی کرکے سلطان سے منصب قضا حاصل کیا،بڑی تنخواہ،عزت ورشوت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے یہ شرح خیال میں رہے۔

۲؎ چھری سے ذبح کردینے میں جان آسانی سے اور جلد نکل جاتی ہے،بغیر چھری مارنے میں جیسے گلا گھونٹ کر،ڈبوکر،جلاکر،کھانا پانی بند کرکے ان میں جان بڑی مصیبت سے اور بہت دیر میں نکلتی ہے،ایسا قاضی بدن میں موٹا ہوجاتا ہے مگر دین اس طرح بربادکرلیتا ہے کہ اس کی سزا دنیا میں بھی پاتا ہے اور آخرت میں بھی بہت دراز کیونکہ ایسا قاضی ظلم،رشوت،حق تلفی وغیرہ ضرور کرتا ہے جس سے دنیا اس پر لعنت کرتی ہے اﷲ رسول ناراض ہوتے ہیں،فرعون،حجاج یزید وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں۔اس حدیث کی بنا پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے جیل میں مرجانا قبول فرمالیا مگر قضا قبول نہ فرمائی،رضی اللہ عنہ۔

3734 -[4]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو حاکم بننا تلاش کرے اور مانگے ۱؎  وہ اپنے نفس کو سونپ دیا جائے گا۲؎  اور جو اس پر مجبور کیا جائے تو اﷲ اس پر فرشتہ اتارے گا جو اسے درست رکھے گا۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ اس طرح کہ عملًا قاضی بننے کی کوشش کرے،زبان سے طلب کرے، درخواستیں دے۔ قضا سے مراد مطلقًا حکومت ہے سلطنت ہو یا دوسری حکومت۔(مرقات)مانگنے سے مراد ہے نفسانی خواہش کے لیے مانگنا جیساکہ بارہا عرض کیا جاچکا لہذا یوسف علیہ السلام کا شاہ مصر سے فرمانا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"اس حکم سے خارج ہے۔

۲؎ یعنی ایسے طالب جاہ حاکم کی مدد اﷲ تعالٰی نہیں کرے گا اسے اس کے نفس کے حوالہ کردے گا اور ظاہر ہے کہ ہمارا نفس ہمارا بڑا دشمن ہے جو لاحول سے بھی نہیں بھاگتا رمضان میں قید نہیں ہوتا۔

 



Total Pages: 807

Go To