Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3728 -[7]

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:« (مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ احْتَجَبَ اللَّهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ» . فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِأَحْمَدَ: «أَغْلَقَ اللَّهُ لَهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَّتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ»

 روایت ہے حضرت عمرو ابن مرۃ سے ۱؎ کہ انہوں نے حضرت معاویہ سے فرمایا ۲؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جسے اﷲ مسلمین کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے حجاب کردے ۳؎ تو اﷲ اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرمادے گا۴؎ چنانچہ حضرت معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرمادیا ۵؎(ابوداؤد،ترمذی) احمد اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ اﷲ اس کی ضرورت و حاجت و محتاجی کے سامنے آسمان کے دروازے بند فرمادے گا ۶؎

۱؎  مرہ میم کے پیش ر کے شدوفتحہ سے ہے،عمرو ابن مرہ کی کنیت ابو مریم ہے،آپ جہنی ہیں یا ازدی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اکثر غزوات میں شامل رہے،شام میں قیام رکھا،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔

۲؎  جب کہ امیرمعاویہ سلطان بن چکے تھے تاکہ وہ اس حدیث پرعمل کریں۔

۳؎ اس طرح کہ نہ مظلوموں حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے دے،اپنے دروازے پر سخت پہرہ بٹھادے،نہ ان کی ضروریات کی پرواہ کرے،ان سے غافل رہے،ان کی حاجت روائی کا کوئی انتظام نہ کرے،اپنی حکومت سنبھالنے اپنے عیش و آرام میں منہمک رہے۔

۴؎  یعنی اس سے اﷲ تعالٰی اپنے ان مجبور بندوں کا بدلہ لے گا کہ اس کی حاجتیں ضرورتیں پوری فرمائے گا،اس کی دعائیں قبول نہ کرے گا،اس سزا کا ظہور کچھ دنیا میں بھی ہوگا اور پورا پورا ظہور آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ حاجت،خلت اور فقر تینوں قریبًا ہم معنے ہیں مبالغہ اور تاکید کیلیے ارشاد ہوئے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حاجت معمولی ضرورت ہے جو انسان کو متفکر توکردے مگر پریشان نہ کرے۔خلت وہ ضرورت ہے جس سے انسان کے کام میں خلل واقع ہوجائے مگر حد بے قراری اضطرار تک نہ پہنچے۔فقر وہ ضرورت ہے جو انسان کے فقرے یعنی کمر توڑ دے حالت اضطرار تک پہنچ جائے جس سے زندگی دو بھر ہوجائے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فقر سے اﷲ کی پناہ مانگی ہے۔فقیر و مسکین کا فرق اور اس میں احناف و شوافع کا اختلاف کتب فقہ میں دیکھئے۔ خیال رہے کہ جیسے عادل بادشاہ قیامت میں نور کے منبروں پر ہوں گے اﷲ تعالٰی سے قریب ہوں گے،ایسے غافل اور ظالم بادشاہ ذلت کے گڑھے میں اور رب تعالٰی سے حجاب میں ہوں گے۔

۵؎  یعنی امیرمعاویہ نے یہ فرمان عالی سن کر ایک محکمہ بنادیا جس کے ماتحت ہربستی میں ایک وہ افسر رکھا گیا جو لوگوں کی معمولی ضرورتیں خود پوری کرے اور بڑی ضرورتیں امیرمعاویہ تک پہنچائے پھر ہمیشہ اس افسر سے باز پرس کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی تو نہیں کرتا۔

۶؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا،چونکہ آسمان میں لوگوں کے رزق بھی ہیں ان کی ضرویات بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ"اس لیے آسمان کے دروازے بند ہونے کا ذکر فرمایا گیا،بہرحال مطلب ایک ہی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3729 -[8]

عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمُسْلِمِينَ أَوِ الْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إليهِ»

روایت ہے حضرت ابو شماخ ازدی سے وہ اپنے چچازاد سے راوی ۱؎ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں کہ وہ جناب معاویہ کے پاس گئے ۲؎ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو لوگوں کی کسی چیز کا والی بنایا گیا۳؎ پھر اس نے مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں پر اپنا دروازہ بندکرلیا۴؎ تو اﷲ اس کی محتاجی اس کی فقیری کے وقت اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کرلے گا ۵؎ جب کہ اسے ان سے سخت محتاجی ہوگی ۶؎

 



Total Pages: 807

Go To