Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3710 -[50]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟» . قُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ قَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلقانِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسوقت تم کیسے ہوگے جب میرے بعدحکام اس غنیمت سے لوگوں کو ترجیح دینگے  ۱؎  میں نے عرض کیا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا پھر اس سے ماردوں گا یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں گا۲؎ فرمایا کیامیں تمہیں اچھی چیز  پر  راہبری نہ کروں صبرکرناحتی کہ مجھ سے مل جائے  ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ عمومًا فئ اس مال کو کہا جاتا ہے جو بغیر جنگ کفار سے حاصل کرلیا جائے جیسے خراج اور جزیہ یا وہ مال جو کفار چھوڑ کر چلے جائیں اور جو جہاد کے ذریعہ ان سے حاصل کیا جائے اسے غنیمت کہتے ہیں۔چنانچہ رب تعالٰی فیئی کے متعلق فرماتاہے:"وَمَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ"الایہ اور غنیمت کے متعلق فرماتاہے:"وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍفئ تمام مسلمانوں کا حق ہے اس میں سے خمس یعنی پانچواں حصہ نہیں لیا جاتا۔ نفل وہ مال ہے جو کسی خاص بہادر غازی کو کسی بہادری کی وجہ سے بطور انعام دیاجائے، یہاں فیئی سے مراد عام ہے اور مقصود ہے حکام وسلاطین کا ظلم بیان فرمانا یعنی بادشاہ ظلمًا بیت المال کے اموال مستحقین کو نہ دیں گے،اپنے پر خرچ کریں گے یا جسے چاہیں گے بغیر استحقا ق دیں گے،بیت المال کو اپنی ملک سمجھیں گے،اس غیوب دان مخبرصادق کے علم کے قربان صلی اﷲ علیہ وسلم۔

۲؎  یعنی ایسے ظالم بادشاہوں سے میں جنگ کروں گا یہاں تک کہ شہید ہوکر آپ سے مل جاؤں یعنی عمر بھر ان سے لڑوں گا اپنی زندگی کا مشغلہ ان سے جنگ کو بنالوں گا۔

۳؎  یعنی ایسے ظالموں سے جنگ نہ کرنا صبر کرنا۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بادشاہ اپنے فسق یا خیانت کی وجہ سے عزل کا مستحق نہیں فاسق بادشاہوں کی بھی اطاعت واجب ہے۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگوں کے انجام اور بعد موت اس کے ٹھکانے و مقام کی خبر ہے کہ فرماتے ہیں حتی تلقانی تم مجھ سے مل جاؤ۔آخرت میں حضور سے وہ ملے گا جو مؤمن ومتقی ہوکر مرے پھر قبر وغیرہ کی منزلیں خیریت سے طے کرے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3711 -[51]

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كحكمِهم لأنفُسِهم»

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن اﷲ عزوجل کے سایہ کی طرف سبقت کرنے والے کون ہیں ۱؎  حاضرین نے عرض کیا اﷲ ورسول خوب جانتے ہیں۲؎  فرمایا وہ لوگ  جب حق دیئے جائیں  تو  اسے قبول کرلیں ۳؎ اور جب ان سے حق مانگا جائے تو دیں۴؎  اور لوگوں کے لیے ایسے فیصلے کریں گے جیسے اپنی ذات کے لیے فیصلے۵؎

 



Total Pages: 807

Go To