Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

تھی،اﷲ تعالٰی نے صرف اس حدیث پاک کی برکت سے اہل سنت کو فتح مبین عطا فرمائی کہ ملک عورت کی صدارت اور مخالفین ملک کی شرارت سے محفوظ رہا اور عورت کامیاب نہ ہوسکی۔

الحمدﷲ علی ذلك وصلی اﷲ تعالٰی علی حبیبہ صاحب اللواء المعقود و صاحب المقام المحمود والہ واصحابہ وسلم

بہرحال اسلام میں سلطان اور حاکم کے لیے مرد ہونا شرط ہے۔چنانچہ شرح عقائد نسفی ص۲۲۴ میں فرماتے ہیں کہ حاکم مسلمان آزاد عاقل بالغ اور مرد چاہیے عورتیں ناقص العقل بھی ہیں اور ناقص دین بھی۔ تفسیرات احمدیہ میں مولانا احمد جیون فرماتے ہیں کہ نبوت،خلافت امامت،اذان خطبہ مردوں کے لیے خاص ہے،بلقیس کا زمانہ سلیمان میں بادشاہ ہونا ایسا ہی تھا جیسے عیسائیوں میں ملکہ وکٹوریہ یا بلکہ الزبتھ بادشاہ ہوئیں،اسلام کے یہ خلاف ہے۔سرکار کے لن یفلح قوم فرمانے میں دو عجیب اشارے ہیں:ایک یہ کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ہوگی مگر عورت کو حاکم بنانے کی سزا دنیامیں بھی ملے گی آخرت میں بھی۔ دوسرے یہ کہ دوسرے گناہوں کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہوتا ہے کہ احکام اسلامی ان پر ہی جاری ہوتے ہیں مگر عورت کو سرداری دینے کی شامت ایسی ہے کہ کفاربھی اس کی زد میں آجاتے ہیں غرضکہ یہ جرم بہت سخت ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3694 -[34]

عَن الحارِثِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ: بِالْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَى جَهَنَّمَ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت حارث اشعری ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جماعت کا۲؎  اور سننے و فرمانبرداری کرنے اورہجرت اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا ۳؎ جو جماعت سے ایک بالشت برابر نکل گیا اس نے اسلام کا پھندا اپنی گردن سے نکال دیا ۴؎ مگر یہ کہ لوٹ آئے ۵؎  اور جو جاہلیت کے بلاوے سے بلائے ۶؎ تو وہ دوزخ کی جماعتوں میں سے ہے ۷؎ اگرچہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے ۸؎(احمد،ترمذی)

۱؎  آپ حارث ابن حارث اشعری ہیں،شام میں قیام رہا اس لیے آپ کو شامی بھی کہا جاتا ہے،آپ صحابی ہیں اور آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث منقول ہے،ابو سلام حبشی کے استاذ ہیں۔

۲؎  کہ عقائدواعمال میں جماعت مسلمین کے ساتھ رہو جس چیز پر امت مسلمہ کا اجماع ہوجائے اس کا اتباع کرو اور سلف صالحین کی پیروی کرو۔(مرقات واشعہ)

۳؎ علماءواولیاء کی حق باتیں سنو ان کی اطاعت کرو اور حاکم اسلام کی اطاعت ہر جائز حکم میں کرو اور مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طرف ہجرت کرو یا جہاں اسلامی آزادی نہ ہو کفار سے جہاد کبھی اور کسی کو نصیب ہوتا ہے مگر نفس سے جہاد ہر وقت ہر مسلمان کو کرنا پڑتا ہے۔(مرقات)رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ"اپنے قریبی کافروں سے جہاد کرو سب سے قریبی کافر اپنا نفس ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To