Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3649 -[16]

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ: «أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: أَنه سَأَلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ:«أَهْرِقْهَا» . قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خلاًّ؟ قَالَ: «لَا»

روایت ہے حضرت انس سے وہ حضرت ابو طلحہ سے ۱؎ راوی انہوں نے عرض کیا یا نبی اﷲ میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی جو میری پرورش میں ہیں ۲؎ فرمایا شراب بہا دو مٹکے توڑ دو ۳؎ روایت کیا اسے ترمذی نے اور ضعیف کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان یتیموں کے بارے میں پوچھا جو شراب کے وارث ہوئے ہیں فرمایا اسے بہادو عرض کیا کہ کیا سرکہ نہ بنالیں فرمایا نہیں۴؎

۱؎ بارہا عرض کیا جاچکا ہے کہ حضرت ابو طلحہ جناب انس کے سوتیلے باپ ہیں،حضرت انس نے ان ہی کے ہاں پرورش پائی،دونوں باپ بیٹا بڑے مراتب کے مالک ہیں،فقیر نے انکی قبر مبارک کی زیارت کی ہے۔

۲؎ یعنی شراب کی حرمت سے پہلے میں نے بغرض تجارت ان یتیموں کے مال سے شراب خریدی تھی ابھی فروخت نہ کرچکا تھا کہ شراب حرام ہوگئی اب میں کیا کروں۔اس سوال کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی اوپر کی حدیث میں عرض کیا گیا یعنی سرکہ بنالینے یا کفار کے ہاتھ فروخت کردینے کی اجازت حاصل کرنا۔

۳؎ شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم ابتداءً تحریم میں تھا جب شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی تاکہ لوگ اس کے برتن دیکھ کر پھر شراب نہ پینے لگیں۔

۴؎ سرکہ بنانے کی ممانعت تنزیہی ہے یعنی شراب کا سرکہ بنانا مناسب نہیں۔(مرقات)یا یہ ممانعت شروع تحریم کے وقت کی ہے جب کہ شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم بھی تھا اس کی تحقیق گزرچکی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3650 -[17]

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ ومقتر. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں منع فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نشہ آور اعضاء بکھیر دینے والی چیز سے ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یا تو مسکر سے مراد پتلی نشہ آور چیزیں ہیں اور مفتر یعنی جسم میں گرمی اور ڈھیلا پن پیدا کرنے والی چیز ہے مراد خشک نشیلی چیزیں ہیں جیسے افیون بھنگ چرس وغیرہ کہ اسلام میں یہ سب چیزیں حرام ہیں کچھ تفصیل سے یا مسکر سے مراد قوی نشہ آور مفتر سے مراد ہلکا نشہ ہے،نشہ بہرحال نشہ ہے اگرچہ ہلکا ہو۔خیال رہے کہ تمباکو سے نشہ لینا بھی حرام ہے اگر حقہ یا تمباکو والے پان سے نشہ ہو تو وہ بھی حرام ہے ورنہ نہیں۔ان شاءاﷲ اس کی بحث اس فصل کے آخر میں کچھ کی جائے گی،مفتر بہت وسیع فرمان ہے۔

3651 -[18]

وَعَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ وَنُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ: «إِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فقاتلوهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت دیلم حمیری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم ایک ٹھنڈی زمین میں ہیں اور وہاں سخت کام کرتے ہیں۲؎ اور ہم اس گیہوں سے شراب بناتے ہیں جس سے اپنے اعمال پر اور اپنے ملک کی ٹھنڈک پرقوت حاصل کرتے ہیں۳؎ فرمایا کیا وہ نشہ دیتی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اس سے بچو۴؎ میں نے عرض کیا کہ لوگ اسے چھوڑیں گے نہیں ۵؎ فرمایا اگر نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو ۶؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To