Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

میں رکھ کر سرکہ بنائی گئی تو پاک ہوجائے گی،امام ابوحنیفہ و امام اوزاعی اور لیث کے نزدیک یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب کہ شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی خطرہ تھا کہ اگر لوگوں نے سرکہ بنانا شروع کردیا تو شراب چھوڑیں گے نہیں اس لیے شراب گرا دینے کا حکم دیا گیا جیسے اولًا شراب کے برتنوں کا استعمال بھی حرامت تھا جبکہ لوگ شراب چھوڑ دینے کے عادی ہوگئے شراب کوبھول گئے تب یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا امام اعظم کی دلیل حضور کایہ فرمان عالی نعم الادام الخل سرکہ اچھا سالن ہے اس حدیث میں سرکہ مطلق ہے خواہ اول سے ہی سرکہ ہو یا شراب کا بنایا گیا ہو۔(مرقات و اشعہ)

3642 -[9]

وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ. فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت وائل حضرمی ۱؎ سے کہ حضرت طارق ابن سوید ۲؎ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو منع فرمایا وہ بولے کہ دوا کے لیے بناتا ہوں تو فرمایا کہ شراب دوا نہیں لیکن وہ نری بیماری ہے ۳؎(مسلم)

۱؎ یہ وہ ہی حضرت وائل ابن حجر حضرمی ہیں جن کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ یمن کے شاہزادوں سے تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے حضور نے آپ کا بڑا احترام فرمایا۔

۲؎ آپ بھی حضرمی ہیں، آپ سے صرف ایک حدیث منقول ہے،صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔

۳؎ اس حدیث کی بنا پر اکثر علماء نے فرمایا کہ شراب سے علاج حرام ہے اس میں شفا ہے ہی نہیں،مگر بعض نے فرمایا کہ اگر مسلمان متقی حاذق طبیب کہہ دے کہ اس بیماری کی دوا سوائے شراب کے اور کچھ نہیں تب دواءً حلال ہوجاتی ہے یعنی جب شراب حرام رہے تو اس میں شفا نہیں مگر جب بحکم شرعی صورۃ مذکورہ میں حلال ہو جائے تو اس سے علاج ہوسکتا ہے لیکن اگر گلے میں لقمہ پھنس گیا ہے پانی موجود نہیں پی کر اتارے جان جارہی ہے شراب موجود ہے تو شراب پی کر لقمہ اتار سکتا ہے۔اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ اس مصیبت سے چھٹکارا یقینًا ہوجائے گا،بہرحال یہ حدیث قابل غور ہے۔قرآن کریم نے مخمصہ کی حالت میں مردار کھانے کی اجازت دی ہے وہ آیت اس قول کی تائید کرتی ہے اس حدیث کے متعلق علماء نے بہت گفتگو کی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3643 -[10]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صباحا فَإِن تَابَ لم يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے شراب پی تو اﷲ تعالٰی قبول نہ کرے گا اس کی چالیس دن کی نماز ۱؎ پھر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول فرمائے گا۲؎ پھر اگر لوٹے تو اﷲ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول  کرلے گااگر پھر لوٹے تو اللہ اس کی چالیس دین کی نمازیں قبول نہ کرے گا ۳؎پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول کرلے گا۴؎ اگر پھر چوتھی بار لوٹے تو اﷲ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول نہ کرے گا۵؎ اور اسے خبال کی نہر سے پلائے گا ۶؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To