Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب بیان الخمر و وعید شاربھا

شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خمر کے لفظی معنی ہیں ڈھکنا چھپانا اسی لیے دوپٹہ کو خمار کہتے ہیں کہ وہ سر ڈھک لیتا ہے،شراب کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ پینے والے کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے،دوسرے اماموں کے نزدیک ہر پتلی نشہ آور چیز خمر ہے اور اس کا پینا حرام نشہ دے یا نہ دے خواہ انگور کی ہو یا کھجور وغیرہ کسی اور چیز کی۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک صرف شراب انگوری کو خمر کہتے ہیں دوسری شرابیں خمر نہیں کہلاتیں،امام اعظم کے ہاں انگوری اور غیر انگوری میں چند طرح فرق ہے:ایک یہ کہ خمر یعنی شراب انگوری حرام قطعی ہے اس کا حلال جاننے والا مرتد ہے باقی شرابیں حرام ظنی ہیں جن کا منکر کافر نہیں۔دوسرے یہ کہ خمر یعنی شراب انگوری نجس العین نجاست غلیظہ ہے دوسری شرابیں نجاست غلیظہ۔تیسرے یہ کہ خمر یعنی شراب انگوری کا ایک قطرہ پینے والے کو حد یعنی اسی۸۰ کوڑے ماریں جائیں گے،دوسری شراب حد نشہ تک پینے والے کو حد لگے گی کم والے کو نہیں۔چوتھے یہ کہ خمر کا ایک قطرہ بھی حرام ہے نشہ دے یا نہ دے،دوسری شرابیں حد نشہ سے کم حرام نہیں بلکہ حد نشہ پر حرام ہوتی ہیں،ہاں جو کوئی لہوولعب،عیش وطرب کے لیے حد نشہ سے کم پئیے تو سخت گنہگار ہے،ہر لہو حرام ہے اور لہو والا حرام کا مرتکب۔امام محمد کے ہاں ہر شراب کا قطرہ بھی حرام ہے مگر فی زمانہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ نہ دیا جائے ورنہ فساق اس بہانہ سے شراب خوری کریں گے۔کسی نے ابو حفص کبیر سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر شراب کا قطرہ بھی حرام ہے سائل نے کہا آپ نے امام اعظم کے خلاف کہا آپ نے فرمایا فی زمانہ لہوولعب کے لیے لوگ پیتے ہیں لہذا حرام کے مرتکب ہیں جن کے لیے غیرخمر کا قطرہ حلال تھا،اب وہ لوگ نہ رہے یہ وہ تھے جو صرف کھانا ہضم کرنے،نماز  پر قوت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔(اشعہ ولمعات)افیون،بھنگ،چرس وغیرہ نشہ آور غیرپتلی چیزوں کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ تا حدنشہ حرام ہیں اس لیے کم دواءً،حلال لہو ولعب کے لیے حرام،نیز وہ چیزیں نجس نہیں۔

3634 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجرتينِ: النخلةِ والعِنَبَةِ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اﷲ سے راوی فرماتے ہیں شراب ان دونوں درختوں سے ہوتی ہے کھجور اور انگور ۱؎ (مسلم)

۱؎  یہاں خمر لغوی معنی میں ہے یعنی عقل بگاڑنے والی چیز اور ان دو چیزوں کا ذکر اس لیے ہے کہ اس وقت عرب میں ان ہی کی شراب عمومًا ہوتی تھی ورنہ شراب اور چیزوں سے بھی بنتی ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔

3635 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خطَبَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ عَلَى مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ والشعيرِ والعسلِ وَالْخمر مَا خامر الْعقل ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے منبر پر خطبہ پڑھا ۱؎ تو فرمایا کہ شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہےاور شراب پانچ چیزوں سے ہوتی ہے ۲؎  انگور،چھوہارے،گیہوں،جو اور شہد سے ۳؎ خمر وہ ہے جو عقل بگاڑے ۴؎(بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To