Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎ بِعَبْدٍ کی ب مصاحبت کی ہے بمعنی ساتھ،اس غلام کا نام معلوم نہ ہوسکا،حضور نے یہ غلام حضرت فاطمہ کو پہلے ہی دیا تھا،آج دینے کے لیے تشریف نہ لائے تھے جیسا کہ وَھَبَہٗ ماضی سے معلوم ہوا۔

۲؎ یعنی اس وقت آپ کے پاس صرف دوپٹہ یا چادر تھی وہ بھی اتنی چھوٹی جو بیک وقت سرو پاؤں نہیں چھپا سکتی۔

۳؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع اس غلام کے دروازے پر کھڑے تھے داخلہ کی اجازت مانگی جواب میں دیر ہوئی تب تحقیق فرمانے پر جناب فاطمہ کا یہ تکلف معلوم ہوا تب یہ فرمایا۔فرمان عالی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم تمہارے والد ہیں اور یہ دوسرا تمہارا مملوک غلام ان دونوں سے تمہارا پردہ نہیں سر کھلا رہنے دو اور ہم کو آنے کی اجازت د ے دو۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ جیسے مولیٰ سے لونڈی پر پردہ لازم نہیں ایسے ہی مملوک غلام سے مالکہ پر پردہ واجب نہیں مگر امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک بالغ خادم اپنی مالکہ کیلیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس سے پردہ واجب ہے،اگرچہ غلام خصی ہی ہو،امام شافعی کا یہ استدلال کچھ ضعیف سا ہے کیونکہ یہ غلام نابالغ اور غیر محل شہوت تھا،عربی میں غلام نابالغ بچے کو کہتے ہیں،جس پر قرآن مجید و احادیث و لغت کی کتب گواہ ہیں۔خیال رہے کہ نابالغ اور اپنے محرم غلام سے پردہ نہیں اور آیت"مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ"میں امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے ہاں لونڈیاں مراد ہیں۔(از مرقات و اشعہ)خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں بالغ غلام اپنی مولاۃ مالکہ کے لیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں ضرورۃً دیکھ سکتا ہے،مگر امام شافعی کے ہاں محرم کی طرح ہے کہ اس کا سر بازو پنڈلی بھی دیکھ سکتا ہے یہاں حضرت فاطمہ کے سر شریف کا ذکر ہے اس لیے وہ اس سے دلیل پکڑتے ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3121 -[24] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يدخلن هَؤُلَاءِ عَلَيْكُم»

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس تھے اور گھر میں ایک ہیجڑا تھا ۱؎ عبداﷲ ابن امیہ جو جناب ام سلمہ کے بھائی ہیں سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداﷲ کہ کل اگر اﷲ تمہیں طائف کی فتح دے ۲؎ تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا پتا دیتا ہوں ۳؎ جو آتی ہے چار سے اور جاتی ہے آٹھ سے ۴؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ ہر گز تمہارے پاس نہ آیاکریں ۵؎(بخاری،مسلم)

۱؎  مخنَّث نون کے فتح سے بھی پڑھا جاتا ہے اور نون کے کسرہ سے بھی۔مخنث وہ ہے جو حرکات و سکنات،گفتار ورفتار میں عورتوں کی طرح ہو اگر قدرتی یہ حالت ہو تو وہ گنہگار نہیں اور اگر مرد ہے مگر عورت کی شکل بناتا ہے تو بفرمان حدیث ملعون ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مرد بننے والی عورتوں پر اور عورت بننے والے مردوں پر لعنت فرمائی،یہ قدرتی مخنث تھا۔حضرت ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے سمجھا کہ یہ غیر اُولِی الاربہ میں داخل ہے جن سے پردہ نہیں اس لیے اسے گھر میں آنے کی اجازت دے دی حضور انور نے اس کی یہ گفتگو سن کر  اسے غیر اُولِی الاربہ میں داخل نہ فرمایا اس مخنث کا نام ماطغ یا ہیت تھا۔

 



Total Pages: 807

Go To