Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۶؎ مرقات نے فرمایا کہ ما علمت میں ما بمعنی الّذی اور یہ موصول صلہ لفظ اﷲ کی صفت ہے یعنی اﷲ کی قسم جس کو میں جا نتا پہچانتا ہوں یہ ملزم اﷲ رسول کا محب ہے یا ما زائدہ ہے یعنی میں یقین و جزم سے جانتا ہوں کہ یہ اﷲ رسول کا محب ہے یا ما زائدہ ہے اور علمت مخاطب کا صیغہ ہے یعنی کیا تجھے یہ خبر نہیں کہ یہ اﷲ رسول کا محب ہے اور اﷲ رسول کی محبت قربت کا ذریعہ ہے اور قربت پر رحمت ہوتی ہے نہ کہ لعنت۔

3626 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ: «لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی لی تو فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض نے اپنے ہاتھ سے مارا بعض نے اپنے جوتے سے اور بعض نے اپنے کپڑے سے پھر جب فارغ ہوئے تو بعض نے کہا کہ تجھے اﷲ رسوا کرے تو فرمایا یوں نہ کہو اور اس پر شیطان کو مدد نہ دو ۱؎ (بخاری)

۱؎  یہ حدیث گزشتہ باب کی دوسری فصل کے آخر میں گزر چکی،اس کی شرح بھی وہاں ہی ہوچکی۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حدود شرعیہ صرف حاکم اسلام ہی قائم کرسکتا ہے نہ خود مجرم اپنے کو سزا دے اور نہ کوئی اور۔دوسرے یہ کہ حاکم جس سے چاہے سزا دلوادے ایک آدمی سے یا ایک جماعت سے، جلاد وغیرہ کا مقررکرنا لازم نہیں،ہاں چور کا ہاتھ اس تجربہ کار سے کٹوائے جو اس کام کو جانتا ہو ورنہ نبض کا خون بہ کر ہلاک ہوجانے کا اندیشہ ہے۔تیسرے یہ کہ سزاءشرعی کے علاوہ مجرم کو برا بھلا کہنا بھی جائز ہے تاکہ شرمندہ ہوکر آئندہ باز رہے۔چوتھے یہ کہ کسی مجرم فاسق گنہگار کو نام لے کر لعنت کرنا یا اخزاك اﷲ کہنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں شیطان کی خوشی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو بار بار جرم کرتا رہے اور رسوا ہوتا رہے شیطان یہ ہی تو چاہتا ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3627 -[3]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟» قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ حَلَالًا قَالَ: «فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟» قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ برجلِهِ فَقَالَ: «أينَ فلانٌ وفلانٌ؟» فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ» فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: «فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عَرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أنهارِ الجنَّةِ ينغمسُ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ اسلمی ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی ذات پر چار بارگواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت سے حرام کیا ۲؎ اس پر ہر دفعہ ان سے حضور منہ پھیرتے رہے۳؎ پانچویں بار میں متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تو نے اس سے صحبت کی ۴؎ بولے ہاں فرمایا حتی کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ۵؎ بولے ہاں فرمایا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ۶؎ اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے ۷؎ بولے ہاں فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کیا ہے ۸؎ فرمایا ہاں میں نے اس سے وہ کام حرام کیا ہے جو خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۹؎ فرمایا تم اس سے چاہتے کیا ہو عرض کیا یہ چاہتا ہوں کہ آپ  مجھے پاک فرمادیں ۱۰؎ تب آپ نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۱۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ میں سے دو شخصوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اسے تو دیکھو جس کی اﷲ نے پردہ پوشی فرمائی تھی مگر اس نے اپنے کو نہ چھوڑا حتی کہ کتے کی سنگساری کی طرح رجم کیا گیا ۱۲؎ حضور انور اولًا دونوں سے خاموش رہے پھر گھڑی بھر چلے حتی کہ مردار گدھے پرگزرے جو ٹانگ اٹھائے تھا۱۳؎  تو فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں وہ بولے یارسول اﷲ ہم یہ ہیں تو فرمایا کہ اترو اور اس مردار گدھے میں سے کھاؤ ۱۴؎ انہوں نے عرض کیا یانبی اﷲ اسے کون کھاتا ہے ۱۵؎ فرمایا کہ تم نے جو اپنے بھائی کی آبرو ریزی ابھی کی وہ اس میں سے کھالینے سے زیادہ بری ہے۱۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے ۱۷؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To