Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب حد الخمر

شراب کی سزا کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خمر کے معنی ہیں چھپانا اسی لیے دوپٹے کو خمار کہتے ہیں کہ وہ سر کو چھپالیتا ہے،بعض اماموں کے نزدیک ہر نشہ آور چیز خمر ہے، بعض کے نزدیک صرف انگوری شراب کوخمر کہتے ہیں،انگوری شراب کا ایک قطرہ بھی بالاجماع حرام ہے،دوسری شرابیں حد نشہ تک بالا جماع حرام ہیں،اس سے کم کی حرمت میں اختلاف ہے۔صحیح یہ ہے کہ وہ بھی مطلقًا حرام ہیں نشہ دیں یا نہ دیں۔شراب کی سزا اسی۸۰ کوڑے ہیں عہد صحابہ میں اولًا اختلاف رہا پھر اسی۸۰ کوڑوں پر اتفاق ہوگیا۔شراب کی سزا کے لیے شرط یہ ہے کہ بحالت نشہ اس کی گواہی یا اقرار حاکم کے پاس ہوجائے۔نشہ اتر جانے کے بعد اگر اقرار یا گواہی گزرے تو امام اعظم کے ہاں اس پر یہ سزا نہیں جارہی ہوگی۔خیال رہے کہ نشہ والے کی طلاق تو واقع ہوجاتی ہے مگر اس کا ارتداد درست نہیں یعنی اگر اس کے منہ سے نشہ میں کلمہ کفر نکل جائے تو اسلام سے خارج نہ ہوگا۔ایک صحابی نے بحالت نشہ نماز مغرب میں سورۂ کافرون پڑھی ہر جگہ سے لا چھوڑ گئے تو یہ کلمات کفر بن گئے مگر ان پر حکم ارتداد نہ دیا گیا بعد میں شراب حرام کردی گئی۔

3614 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ والنِّعالِ وجلَدَ أَبُو بكرٍ رَضِي الله عَنهُ أربعينَ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شراب کی سزا میں چھڑیوں اور جوتوں سے پٹوایا ہے ۱؎ اور حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ روایت مجمل ہے کہ اس میں تعداد کا ذکر نہیں،دوسری روایتوں میں چالیس کا ذکر ہے،بعض روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو شاخیں چالیس لگوائیں جس سے اسی۸۰ ہوگئیں اور ہوسکتا ہے کہ اولًا شراب کی سزا مقرر نہ تھی بعد میں مقرر ہوئی یہ روایت اول زمانہ کی ہو۔(مرقات)

۲؎ اس روایت کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ شراب کی سزا چالیس کوڑے ہیں مگر ہمارے ہاں اسی۸۰ کوڑے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے  مشورہ کرکے اسی۸۰  کوڑے مقرر فرمائے اور کسی صحابی نے اعتراض نہ فرمایا لہذا اسی۸۰ کوڑوں پر صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہوگیا۔

3615 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَفِي رِوَايَة عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ

اور دوسری روایت میں ان ہی انس سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم شراب کی سزا میں چالیس جوتے اور چھڑیاں لگواتے تھے ۱؎

۱؎ یعنی شرابی کو کچھ تو جوتے اور کچھ کوڑے دونوں کی تعداد مل کر چالیس ہوئی۔

3616 -[3]

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے فرماتے ہیں کہ شرابی لایا جاتا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر کی امارت اور حضرت عمر کی شروع خلافت میں تو ہم اپنے ہاتھوں اپنے جوتوں اپنی چادروں سے اس پر کھڑے ہوجاتے تھے ۱؎ حتی کہ حضرت عمر کی آخری خلافت آئی تو آپ نے چالیس کوڑے لگوائے ۲؎ یہاں تک کہ جب لوگ سرکش اور بے راہ ہوگئے تو اسی۸۰  کوڑے لگوائے۳؎ (بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To