Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۹؎ اس عورت کی پہچان کرانے کے لیے ہے کیونکہ وہ اس وصف میں مشہور ہوچکی تھی نہ کہ بیان جرم کے لیے کیونکہ اس کا ہاتھ اس انکار کی وجہ سے نہ کٹا تھا بلکہ اس نے ایک بار چوری کرلی تھی لہذا اس کا ہاتھ کٹا یعنی وہ عورت جس کا یہ حال تھا چوری میں پکڑی گئی تو حضور انور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔بعض لوگوں نے کہا کہ امام احمدوامام اسحق کے نزدیک عاریت کے انکار پر بھی ہاتھ کٹ جاتا ہے اس حدیث کے ظاہری معنی کی بنا پر۔واﷲ اعلم! مگر دیگر احادیث میں اس کی چوری کا صریحی ذکر ہے۔(اشعہ ومرقات)

۱۰؎  یعنی فاطمہ مخزومیہ پہلے تو عاریۃ کے انکار کا جرم کرتی تھی پھر چوری میں پکڑی گئی تھی۔خیال رہے کہ حقوق اﷲ والی حدوں میں سفارش کرنا حرام ہے مگر تعزیر اور حقوق العباد والی سزاؤں میں سفارش کرنا جائز بلکہ ثواب ہے جب کہ ملزم شریر نہ ہو خواہ مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ گیا ہو یا نہ پہنچا ہو جیسے قتل کا قصاص کہ اس میں مقتول کے وارثوں سے معافی یا صلح کرا دینے میں حرج نہیں۔ (مرقات)زنا اور چوری کی سزائیں حق اللہ ہیں ان میں سفارش کرنا حرام ہے،زنا کی سزا پہلے سے ہی حق اللہ ہے اور چوری حاکم کے پاس مقدمہ پہنچنے کے بعد حق اللہ بن جاتی ہے،اگر کوئی مالک مال سے سفارش کرکے مقدمہ حکومت میں نہ پہنچنے دے تو جرم نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3611 -[2]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اله تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَفِي روايةٍ للبيهقيِّ فِي شعبِ الْإِيمَان «مَنْ أَعانَ على خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخطِ اللَّهِ حَتَّى ينْزع»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کی سفارش اﷲ کی حدوں میں سے کسی حد کے لیے آڑ بن جائے تو اس نے اﷲ تعالٰی کا مقابلہ کیا ۱؎  اور جو باطل چیز میں جانتے ہوئے جھگڑے وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے گا ۲؎  اور جوکسی مسلمان میں برائی بیان کرے جو اس میں نہیں ہے تو اﷲ اسے کچ لہو میں رکھے گا ۳؎ حتی کہ اپنے کہے سے نکل جائے۴؎ (احمد،ابوداؤد)اور بیہقی کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جو کسی جھگڑے میں مددکرے نہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ نکل جائے ۵؎

۱؎ یعنی اگر سفارشی نے ایسے حالات پیدا کردیئے جس سے شرعی حد قائم نہ ہوسکی تو یہ سفارشی اﷲ کا دشمن ہے اور اگر حاکم نے سفارش قبول کرکے مجرم کو چھوڑ دیا تو سفارشی اور حاکم دونوں اﷲ تعالٰی کے دشمن ہیں پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ بادشاہ یا وزیر کسی مجرم کی سفارش کرکے حاکم کو چھوڑ دینے پر مجبور کرے اور حاکم چھوڑنا تو نہ چاہتا تھا مگر ان کے دباؤ سے مجبور ہوگیا تب یہ حکم ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے چھوڑانے والے سفارشی کا ذکر فرمایا چھوڑنے والے حاکم کا ذکر کیوں نہ فرمایا۔

۲؎ یہ فرمان عالی بہت وسیع ہے جھوٹے مقدمہ باز،جھوٹے مناظر،جھوٹے جھگڑالو سب ہی اس میں داخل ہیں۔ رب تعالٰی ہدایت دے اگر اس حدیث پر عمل ہوجائے تو مقدمہ بازیاں مناظرے سب ہی ختم ہوجائیں۔

 



Total Pages: 807

Go To