Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الشفاعۃ فی الحدود

حدود میں سفارش کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس باب میں اگرچہ چوری کی سزا میں سفارش کی ممانعت کا ذکر ہے مگر کسی حد میں سفارش جائز نہیں اسی لیے صاحب مشکوۃ نے حدود جمع فرمایا۔

3610 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عائشةَ رَضِي الله عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟» ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي روايةٍ لمسلمٍ: قالتْ: كانتِ امرأةٌ مخزوميَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثمَّ ذكرَ الحديثَ بنحوِ مَا تقدَّمَ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی ۱؎ انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے ہیں ۲؎ چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا ۳؎ تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا تم اﷲ تعالٰی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو ۴؎ پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے ۶؎  اور اﷲ کی قسم ۷؎  اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۸؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی اور اس کا انکار کر دیتی تھی ۹؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے اسامہ کے پاس آئے ان سے کچھ کہا سنا تو انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کے متعلق عرض کیا پھر گزشتہ حدیث کی مثل ذکر کیا ۱۰؎

۱؎ مخزوم قریش کا بہت بڑا قبیلہ ہے اسی قبیلہ میں ابوجہل تھا،اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود ابن عبدالاسد ہے حضرت ابو سلمیٰ کی بھتیجی،بہت عالی نسب اشرف قوم تھیں۔

 



Total Pages: 807

Go To