Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎ مجن میم کے کسرہ اور جیم کے فتحہ سے بمعنی ڈھال ہے،جن سے مشتق بمعنی چھپانا،چونکہ ڈھال سر چھپانے کا آلہ ہے اس لیے اسے مجن کہتے ہیں،ڈھال کی قیمت میں بھی احادیث میں اختلاف ہے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن العاص سے روایت کی کہ ڈھال کی قیمت دس درہم تھی اور چونکہ یہ ہاتھ کاٹنا حد ہے اور حدود شبہات سے دفع ہوجاتے ہیں اس لیے دینار سے کم کی روایات مشکوک و مشتبہ ہیں اور دینار کی روایت یقینی ہے لہذا حد جیسے نازک مسئلہ میں یہ ہی روایت معتبر ہونی چاہیے یعنی بڑی سے بڑی قیمت کو نصاب بنانا لازم ہے۔حاکم نے مستدرک میں بروایت مجاہد عن ایمن نقل کیا کہ حضور انور کے زمانہ میں ڈھال سے کم قیمتی مال میں ہاتھ نہ کٹتے تھے وثمنہٗ یومئذٍ دینار  اور اس زمانہ میں ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔خیال رہے کہ یہ ایمن صحابی ہیں انہیں ابن ام ایمن بھی کہا جاتا ہے،ایمن تابعی دوسرے ہیں دیکھئے مرقات۔

3592 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ السارِقَ يسرقُ البيضةَ فتُقطعُ يَده وَيسْرق الْحَبل فتقطع يَده»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا خدا کی پھٹکار چور پر ۱؎ کہ بیضہ(خَود)چرائے تو اس کاہاتھ کاٹا جائے اور رسّی چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے ۲؎(مسلم، بخاری)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ گنہگار فاسق مؤمن پر بغیر نام لیے صرف وصف سے لعنت کرنا درست ہے،نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے۔(مرقات)

۲؎ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ہر چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے اگرچہ ایک دو پیسہ کی ہی چیز چوری ہو کیونکہ بیضہ کے معنے ہیں انڈا اور حبل کے معنی ہیں رسی اور ظاہر ہے کہ انڈا اور رسی نہ دینار کے ہوتے ہیں نہ تین درہم کے،انڈا ایک دو پیسہ کا رسی ایک دو آنہ کی مگر یہ دلیل نہایت ضعیف ہے کیونکہ بیضہ خود کو بھی کہتے ہیں یعنی لوہے کی جنگی ٹوپی اور رسی کشتی اور جہاز کی بھی ہوتی ہے جو ریشمی اور قیمتی ہوتی ہے،ہوسکتا ہے کہ یہاں وہ ہی خود اور کشتی کی رسی مراد ہو اور اگر یہ ہی مرغی کا انڈا اور عام رسی مراد ہو تب بھی حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ چور پر خدا کی پھٹکار کہ انڈا رسی کی چوری سے چوری کرنا سیکھے حتی کہ چوری کا عادی ہوکر بڑی چیز چرائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے اسی لیے یہاں لفظ بہ نہ ارشاد ہوا لہذا یہ استدلال قوی نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3593 -[4]

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ» رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ تو سبز میوے میں ہاتھ کٹتا ہے نہ درخت کی چربی میں ۱؎ (مالک،ترمذی، ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)۲؎

۱؎ امام شافعی کہتے ہیں کہ پھل جب تک درخت میں لگا رہے ثمر کہلاتا ہے،درخت سے ٹوٹنے کے بعد رطب اور جب علیٰحدہ کرکے خشک کرلیا جائے تو تمر ہے لہذا یہاں ثمر سے مراد درخت میں لگا ہوا پھل جو توڑا نہ گیا ہو اور کثر کاف و ث کے فتحہ سے درخت



Total Pages: 807

Go To