Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب قطع السرقۃ

چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  سرقہ سین کے فتح اور ر کے کسرہ سے مصدر ہے بمعنی چوری اور دونوں کے فتح سےسارق بمعنی چور کی جمع ہے یہاں دونوں معنی درست ہیں یعنی چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان یا چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا بیان۔خیال رہے کہ سرقہ یعنی چوری کے معنی ہیں کسی کی چیز خفیہ طور پر لے لینا،شریعت میں بھی سرقہ کے یہ ہی معنی ہیں ہاں قطع کے لیے اس میں کچھ قیدیں ہیں جیسے چور عاقل بالغ ہو،مال دس درہم قیمت کا ہو،مال جلد خراب ہوجانے والا نہ ہو جیسے تر پھل پھول کسی کی حفاظت سے چرائے،مال خود محفوظ ہو لہذا چور کے قبضہ سے مال چرانے والا،زوجین میں سے ایک دوسرے کا مال چرانے والا،جن قرابتداروں کے گھر میں آنے جانے کی اجازت ہو ان کے گھر سے مال چرانے والا ان کے ہاتھ نہ کٹیں گے۔(مرقات وغیرہ)

3590 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقطعُ يدُ السَّارِقِ إِلاَّ بربُعِ دِينَار فَصَاعِدا»

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ چور کے ہاتھ ۱؎ چہارم دینار سے کم میں نہ کاٹے جائیں پھر زیادہ میں ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں سارق سے مراد جنس ہے خواہ مرد ہو یا عورت لہذا چوئٹے اور چوئٹی کی سزا ایک ہی ہے خواہ چور مؤمن ہویا کافر۔

۲؎ شوافع کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں دینار بارہ درہم کا ہوتا تھا لہذا چوتھائی دینار تین درہم ہوا لہذا جن احادیث میں تین درہم کا ذکر ہے وہ اس حدیث کی شرح ہیں۔خیال رہے کہ اس پر تو تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے مگر اس میں اختلاف ہے کہ کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے۔امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک تین درہم کا مال چرانے پر ہاتھ کٹے گا ان کی دلیل یہ حدیث ہے  ،ہمارے امام اعظم کے نزدیک  پورے دینار کی قیمت کامال چرانے پر ہاتھ کٹے گاامام اعظم قدس سرہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے مرفوعًا اور موقوفًا دونوں طرح مروی ہے کہ لایقطع الا فی دینارٍ یعنی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مگر ایک دینار میں،امام اعظم کے ہاں دینار دس درہم کا ہے لہذا دس درہم کی قیمت کے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کٹے گا،خواجہ حسن بصری اور داؤد اور فرقہ خارجیہ اور امام شافعی کی نواسی کا قول ہے کہ مطلقًا چوری پر ہاتھ کٹے گا خواہ ایک پیسہ کی چوری کرے،وہ کہتے ہیں کہ آیت"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا"مطلق ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ چوری کے لیے نصاب مقرر ہے اور آیت کریمہ"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ" مطلق نہیں بلکہ مجمل ہے کیونکہ چور اور چوری اور ہاتھ کی تفصیل نہیں کہ کس چور کا کس چوری پرکون سا ہاتھ کٹے گا داہنا کہ بایاں اور کہاں سے کٹے گا کلائی سے یا کہنی سے یا کندھے سے،احادیث نے ان اجمالات کی تفصیل فرمائی۔

3591 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کے ہاتھ اس ڈھال میں کاٹے جس کی قیمت تین درہم تھی ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To