Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۶؎  اس سے معلوم ہوا کہ جس زانی کی سزا کوڑے ہوں اسے کوڑوں سے مرنے نہ دیا جائے لہذا بیمار کو یوں ہی سخت سردی سخت گرمی میں کوڑے نہ لگائے جائیں جب کہ مر جانے کا خطرہ ہو اور اگر یہ زانی مدقوق یا سل کی بیماری میں مبتلا ہو جس سے شفاء کی امید ہو تو سو شاخوں والی لکڑی اس کے جسم پر اس طرح مار دی جائے کہ جان نہ نکلے،اس پر ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے حاملہ کو بھی کوڑے نہ لگائے جائیں کہ مرنے کا اندیشہ ہے اور جس کی سزا رجم ہو اسے بہرحال رجم کردیا جائے کہ وہاں تو موت ہی دینی ہے۔

۷؎ جب کہ وہ طاقتور ہو کر کوڑے جھیل سکے۔

۸؎ بذریعہ حاکم اسلام حد قائم کراؤ کیونکہ حد قائم کرنا حاکم اسلام کا کام ہے صرف مولیٰ قائم نہیں کرسکتا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3565 -[11]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّه قدْ زَنى فأعرضَ عَنهُ ثمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زنى فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَ من شقَّه الْآخَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنى فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ. فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنه فرحين وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّه أَن يَتُوب الله عَلَيْهِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز اسلمی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا انہوں نے زنا کیا ہے ۱؎ حضور نے اس سے منہ پھیر لیا تو وہ دوسری جانب آگئے۲؎ بولے انہوں نے زنا کیا ہے حضور نے پھر ان سے منہ پھیر لیا پھر دوسری طرف سے آگئے بولے یا رسول اﷲ انہوں نے زنا کیا ہے تب چوتھی دفعہ میں حکم دیا تو انہیں حرہ کی طرف نکالا گیا رجم کیا گیا پتھروں سے پھر جب انہیں پتھروں کی تکلیف پہنچی دوڑتے ہوئے بھاگ گئے۳؎ حتی کہ ایک شخص پر گزرے جس کے پاس اونٹ کی ہڈی تھی ۴؎ اس نے یہ ہڈی ان کے ماری اور لوگوں نے بھی انہیں مارا حتی کہ مر گئے۵؎ لوگوں نے رسول اﷲ سے عرض کیا کہ ماعز نے جب پتھروں اور موت کی تکلیف پائی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ۶؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا شاید وہ توبہ کرلیتے تو اﷲ ان کی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۷؎

۱؎ یہ روایت بالمعنی ہے انہوں نے کہا تھا انی زنیت میں نے زنا کرلیا ہے،راوی نے اس طرح غائب کے صیغہ سے روایت کیا اور ہوسکتا ہے کہ خود ماعز نے اپنے کو غائب کے صیغے سے بیان کیا ہو یعنی اس فقیر گنہگار حقیر نے زنا کرلیا ہے۔

۲؎ اس طرح کہ اولًا یہاں سے چلے گئے پھر غیرت ایمانی کے جوش میں حاضر ہوئے مگر دوسری جانب سے نہ کہ یہاں رہتے ہوئے لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں جہاں ان کا مجلس شریف سے چلاجانا مذکور ہے ہر دفعہ وہ آتے جاتے رہے۔

۳؎ یہ بھاگنا غیر اختیاری تھا جیسے ذبح کے وقت جانور کا تڑپنا لہذا اس سے ماعز کا ثواب کم نہ ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر مرد کے رجم کے لیے گڑھا نہ کھودا جائے بلکہ ویسے ہی کھلے میدان میں رجم کیا جائے گا۔

 



Total Pages: 807

Go To