Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کتاب الحدود

مقررہ سزاؤں کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ حدود جمع ہے حد کی،لغت میں حد کے معنے ہیں آڑ یا منع اسی لیے دربانچی یعنی بوّاب کو عربی میں حداد بھی کہتے ہیں۔اصطلاح میں جرم کی شرعی مقررہ سزا کو حد کہتے ہیں کہ یہ بھی لوگوں کو جرموں سے روکتی ہے کبھی حرام چیزوں کو بھی حدود کہا جاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا"کیونکہ یہ محرمات سزاؤں کا سبب ہیں،اسلام میں زنا کی سزا رجم ہے یا سو۱۰۰ کوڑے،چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا،شراب پینے کی سزا اسی۸۰ کوڑے،پاکدامن آزاد عورت کو تہمت لگانے کی سزا بھی اسی۸۰ کوڑے،ڈکیتی کی سزا سولی وغیرہ ہے،قتل کی سزا قصاص حد شرعی ہیں،باقی جوئے وغیرہ جرموں میں حد نہیں تعزیر ہے کہ حاکم جو چاہے سزا دے۔حق یہ ہے کہ شرعی حدود اس گناہ کا کفارہ نہیں اور ان سے اخروی عذاب دفع نہ ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم ڈاکوؤں کے متعلق فرماتاہے:"لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا"۔معلوم ہوا کہ ڈاکو کی سولی دنیاوی رسوائی ہے اخروی سزا اس کے علاوہ ہے جو توبہ سے دفع ہوسکتی ہے۔بخاری شریف وغیرہ میں جو ہے کہ جسے ان جرموں کی سزا دینا میں دے دی گئی فھو کفارۃ لہ وہ اس کا کفارہ بن گئی،وہاں وہ سزا مراد ہے جو توبہ کے ساتھ ہو،مجرم خود حاکم کے سامنے سزا لینے حاضر ہوجائے۔(ازمرقات وغیرہ)جیسے صحابہ کرام جرم کے بعد خود آکر عرض کرتے تھے طھّرنی یارسول اﷲ حضور مجھے پاک فرمادو۔خیال رہے کہ حاکم کسی مجرم کو اپنے خصوصی علم کی بنا پر سزا نہیں دے سکتا جب تک کہ گواہی یا اقرار سے اس کا ثبوت نہ ہوجائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِذْ لَمْ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللہِ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ"۔یہ ہی احناف اور جمہور علماء کا مذہب ہے۔

3555 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فاقْضِ بَيْننَا بكتابِ الله وائذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبرُونِي أنَّ على ابْني الرَّجْم فاقتديت مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِن اعْترفت فارجمها» فَاعْترفت فرجمها

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور زید ابن خالد سے ۱؎ کہ دو شخصوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا تو ان میں سے ایک بولا کہ ہمارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ فرمادیجئے ۲؎ اور دوسرا بولا ہاں یا رسول اﷲ پس ہمارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ فرمایئے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئے۳؎ فرمایا بولو عرض کیا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ۴؎ تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا مجھے لوگوں نے خبر دی کہ میرے بیٹے پر رجم(سنگساری)ہے ۵؎ تو میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک اپنی اونٹنی کا فدیہ دے دیا ۶؎ پھر میں نے علماء سے پوچھا ۷؎ انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کا دیس نکالا ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے ۸؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ رہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ۹؎ رہیں تیری بکریاں اور لونڈی وہ تجھ پر واپس ہوں گی ۱۰؎ لیکن تیرا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال دیس نکالا ہے ۱۱؎ اور اے انیس ۱۲؎ کل صبح تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو تو اس نے اقرار کرلیا چنانچہ اسے رجم کیا ۱۳؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To