Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

3106 -[9]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحهَا فَلْيفْعَل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دینے لگے ۱؎ تو اگر اس کو دیکھ سکے جسے نکاح کی دعوت دیتا ہے تو ضرور کرلے ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یہ ترجمہ نہایت مناسب ہے یعنی پیغام نکاح دینے کے بعد عورت کو نہ دیکھے ورنہ ناپسندیدگی کی صورت میں عورت کو صدمہ ہوگا بلکہ دیکھنے کے بعد پیغام دے،دیکھنے کی صورتیں پہلے بیان ہوچکیں کہ یا تو کسی حیلہ بہانے سے خود دیکھے یا کسی معتبر عورت سے دکھوالے،مرقات نے بھی خطب کے معنی ارادہ پیغام کیے۔

۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نکاح میں عورت کے حسب و نسب دینداری وغیرہ کے ساتھ صورت کا بھی لحاظ رہے، دوسری چیزوں کی تحقیقات تو اور طرح بھی ہوسکتی ہے مگر صورت کی تحقیق دیکھ کر ہی ہوسکتی ہے جن احادیث میں صورت و حسن کی بنا پر نکاح کرنے سے منع فرمایا گیا وہاں صرف صورت کا لحاظ کردینا دینداری کی پرواہ نہ کرنا مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔دوسرے یہ کہ مرد تو عورت کو دیکھنے کی کوشش کرے مگر عورت مرد کو دیکھنے کی کوشش نہ کرے،کیونکہ مرد کی تندرستی اخلاق اور کمائی دیکھی جاتی ہے،حسن عورت کا زیور ہے اور یہ چیزیں مرد کا زیور ہیں۔

3107 -[10]

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟» قُلْتُ: لَا قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو پیغام نکاح دیا ۱؎ تو مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے میں نے کہا نہیں فرمایا اسے دیکھ لو کہ یہ دیکھنا تمہاری آپس کی دائمی محبت کا ذریعہ ہے ۲؎(احمد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یا تو پیغام دینا چاہا یا ابھی معمولی بات چیت ہوئی پختہ بات ہوجانے اور ارادہ نکاح کرچکنے کے بعد یہ حکم نہ دیا۔

۲؎ کیونکہ اگر بغیر دیکھے تم نے عورت سے نکاح کرلیا بعد نکاح دیکھنے پر تم کو پسند نہ آئی تو یا اسے طلاق دو گے یا اسے بغیر محبت کے بھگتو گے،جس سے تمہاری زندگی بھی تلخ ہوئی اور اس عورت کی بھی،دیکھ کر نکاح کرنے میں یہ اندیشے نہیں۔

3108 -[11]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ مَعَهَا مثل الَّذِي مَعهَا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی جو اچھی معلوم ہوئی ۱؎ تو حضور انور بی بی سودہ کے پاس تشریف لائے وہ خوشبو تیار کررہی تھیں اور ان کے پاس عورتیں تھیں انہوں نے خلوت کا موقع دے دیا حضور نے حاجت پوری فرمائی ۲؎ پھر فرمایا جو مرد کسی عورت کو دیکھ لے جو اسے بھلی معلوم ہو تو وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے کہ اس کے پاس بھی وہ ہی ہے جو اس کے پاس ہے ۳؎ (دارمی)

 



Total Pages: 807

Go To