Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب القسامۃ

قسم لینے کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قسامت کے لغوی معنے ہیں قسم کھانا یا قسم لینا مگر احناف کے نزدیک قسامت کے معنی شرعی یہ ہیں کہ کسی محلہ میں کوئی مقتول پایا گیا قاتل کا پتہ نہیں چلتا تو مقتول کے ورثاء اس محلہ کے پچاس آدمیوں سے قسم لیں ہر ایک یہ قسم کھائے کہ نہ ہم نے اسے قتل کیا ہے نہ ہم کو قاتل کا پتہ ہے،ان پچاس آدمیوں کے چننے میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ محلہ میں جن سے چاہیں قسم لیں مگر آزاد عاقل بالغ مردوں سے قسم لیں۔خیال رہے کہ قسامت کے بعد قصاص کسی پر واجب نہ ہوگا،بلکہ دیت واجب ہوگی خواہ مقتول کے وارث قتل عمد کا دعویٰ کریں یا قتل خطاء کا،نیز قسم صرف ملزمین پر ہوگی مقتول کے ورثاء پر نہ ہوگی جیساکہ تیسری فصل میں آرہا ہے یا مقتول کے ورثاء دو عینی گواہ پیش کریں ورنہ ملزمین قسمیں کھائیں،قسامت کا یہ طریقہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا جسے اسلام نے بھی باقی رکھا۔قسامت کے تفصیلی احکام کتب فقہ میں اور اسی جگہ لمعات،اشعۃ اللمعات اور مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ملاحظہ فرمایئے۔

3531 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمة أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَصْغَر الْقَوْم فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كبر الْكبر قَالَ يحيى بن سعد: يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ فَتَكَلَّمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ أَوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ» فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عِنْده بِمِائَة نَاقَة

 

 

 

وَهَذَا الْبَاب خَال من الْفَصْل الثَّانِي

روایت ہے حصرت رافع ابن خدیج ۱؎ اور سہل ابن حثمہ سے ۲؎ انہوں نے خبر دی کہ حضرت عبداﷲ ابن سہل ۳؎ اور محیصہ ابن مسعود دونوں خیبر پہنچے تو وہ دونوں باغات میں متفرق ہو گئے ۴؎ عبداﷲ ابن سہل قتل کردیئے گئے تو عبدالرحمن بن سہل اور خویصہ اورمحیصہ یعنی مسعود کے بیٹے ۵؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ساتھی کے معاملہ میں انہوں نے گفتگو کی۶؎ تو عبدالرحمن نے ابتداء کی اور تھے یہ ساری قوم میں چھوٹے تو ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بڑے کا بڑا پن رکھو ۷؎ یحیی ابن سعید فرماتے ہیں  مقصد یہ تھا کہ بڑا گفتگو کرے ۸؎ چنانچہ انہوں نے بات چیت کی ۹؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپس کی پچاس قسموں سے اپنے مقتول کے یا فرمایا اپنے ساتھی کے مستحق ہوسکتے ہو۱۰؎ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ایسا واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ۱۱؎ تو فرمایا پھر یہود اپنی پچاس پچاس قسموں کے ذریعہ تم سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے ۱۲؎ عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم وہ کافر قوم ہے ۱۳؎ تو ان کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے فدیہ دیا ۱۴؎  اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم لوگ پچاس قسمیں کھا لو اپنے قاتل کے حق دار ہوجاؤ یا ساتھی کے ۱۵؎  پھر اس کا فدیہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیاں دیں ۱۶؎(مسلم،بخاری)

اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To