Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے اسے حسین و جمیل بنایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اﷲ تعالٰی تو صورت سے پاک ہے پھر اس کی صورت کیسی یا یہ اضافت شرف کے لیے ہے جیسے بیت اﷲ یا ناقۃ اﷲ۔بعض روایات میں ہے کہ اﷲ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو صورت رحمان پر پیدا فرمایا،اگر وہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب بھی یہ ہی ہوگا۔خیال رہے کہ انسان اﷲ تعالٰی کی بڑی کامل مخلوق ہے اسے رب نے سننے دیکھنے بولنے اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بخشی،اگر یہ ترقی کرے تو فرشتوں سے افضل ہوجائے اگر نیچے گرے تو ابلیس سے بدترین ہوجائے اور اس کی ساری قوتیں سر اور چہرے میں جمع ہیں اس لیے اس پر مارنے سے منع فرمایا گیا،اسی جگہ مرقات نے بہت نفیس تقریر کی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3526 -[17]

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَوْ أَنَّهُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَهُ مَا عَيَّرْتُ عَلَيْهِ وَإِنْ مَرَّ الرَّجُلُ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ و سلم نے جس نے پردہ کھولا پھر گھر میں نظر ڈالی اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی جائے پھر گھر والوں کا ستر دیکھ لیا تو اس نے ایسی سزا کا کام کیا جو کرنا اسے درست نہ تھا ۱؎ اور جب کہ اس نے نظر ڈالی تو کوئی سامنے آگیا اور کسی نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو میں اسے شرم نہ دلاؤں گا۲؎ اور اگر کوئی شخص بے پردہ دروازے کھلے پر گزرے پھر دیکھ لے تو اس پر گناہ نہیں ۳؎ خطاء تو صرف گھر والوں پر ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۵؎

۱؎ یعنی جو شخص کسی کے گھر کے دروازے کا لٹکا ہوا پردہ یا بند کواڑ بغیر صاحب خانہ کی اجازت کے کھولے اور گھر میں جھانک لے جس سے گھر کی چھپی چیزیں یا چھپی عورتیں یا کسی مرد کا ستر دیکھ لے تو اس نے بدترین گناہ کیا،کہ حق اللہ بھی تلف کیا حق العبد بھی برباد کیا۔

۲؎ یعنی اس آنکھ پھوڑ دینے والے کو نہ تو کوئی سزا دوں گا نہ ملامت کروں گا کیونکہ یہاں قصور اس جھانکنے والے کا ہے۔اس مسئلہ کی تحقیق اور اس کے متعلق آئمہ دین کا اختلاف پہلے بیان ہوچکا کہ احناف کے نزدیک یہ فرمان عالی ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے ورنہ اس آنکھ پھوڑنے والے سے آنکھ کا قصاص ضرور لیا جائے گا،رب تعالٰی نے فرمایا:"الْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"آنکھ تو آنکھ کے بدلے میں پھوڑی جاسکتی ہے نہ کہ تانک جھانک کے عوض۔

۳؎ یعنی اب اس دیکھنے والے پر یہ جرم نہیں جو ابھی مذکور ہوا اگرچہ نیچی نگاہ رکھنا بہتر ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To