Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

مدینہ منورہ سے ایک سو ساٹھ کیلو میٹر ہے،چھ کیلو کے ہمارے۴میل ہوتے ہیں،اس غزوہ کے موقعہ پر حضرت عثمان نے اس لشکر کو بہت سامان دیا اور مجہز جیش عسرۃ کا لقب پایا جنت خرید کی،اسی غزوہ میں مسلمانوں نے درختوں کے پتے کھائے اور اونٹ سے پانی حاصل کیا۔(اشعہ)

۳؎ جو مزدوری پر میرے ساتھ اس جہاد میں گیا تھا۔

۴؎ یا اس مزدور نے اس شخص کا یا اس شخص نے اس مزدور کا۔

۵؎ یعنی کاٹنے والے نے اس زور سے اس کے ہاتھ میں اپنے دانت گڑہا دیئے تھے کہ جب اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ثنیہ گر گئی ۔ خیال رہے کہ  انسان کے سامنے کے دانت رباعیہ کہلاتے ہیں یعنی چوکڑی اور ان کے متصل دائیں بائیں جو دانت ہیں وہ ثنیہ کہلاتے ہیں۔

۶؎ اور دعویٰ کیا کہ میرے دانت کی دیت دلوائی جائے کیونکہ اس نے میرا دانت گرادیا۔

۷؎ مقصد یہ ہے کہ اس نے تیرا دانت توڑا نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے اور اپنے کو بچاتے ہوئے تیرے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اس لیے وہ ظالم نہیں بلکہ ظالم تو ہے کہ تو نے اسے کاٹا لہذا اس کی کوئی دیت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے جبرًا زنا کرنا چاہے اور وہ عورت اپنے بچاؤ کے لیے اسے قتل یا زخمی کردے تو اس پر کچھ قصاص یا دیت نہیں،اسی طرح اگر کوئی کسی کا مال یا جان جبرًا لینا چاہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے اسے ہلاک کردے تب بھی یہ ہی حکم ہے۔

3512 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شهيدٌ»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی وجہ سے مار دیا جائے وہ شہید ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)۲؎

۱؎ یعنی چور یا ڈاکو یا کسی اور ظالم نے اس کا مال چھیننا چاہا اس نے دفاع کے طور پر اس سے جنگ کی اور مارا گیا تو یہ شخص شہید ہوگا کہ ظلمًا قتل ہوا ہے۔

۲؎ اس حدیث کو ابن حبان،ترمذی،نسائی،ابوداؤد نے بھی حضرت سعید ابن زید کی روایت سے نقل فرمایا۔(مرقات)

3513 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: «قَاتِلْهُ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: «فَأَنْتَ شَهِيدٌ» . قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص حاضر ہوا بولا یارسول اﷲ فرمایئے اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال لینا چاہے ۱؎ تو فرمایا اسے اپنا مال نہ دے ۲؎ وہ بولا حضور فرمادیں اگر وہ مجھ سے جنگ کرے فرمایاتو اس سے جنگ کر۳؎ عرض کیا فرمایئے اگر وہ مجھے قتل کردے فرمایا تو شہید ہے ۴؎ عرض کیا فرمایئے اگر میں اسے قتل کردوں فرمایا وہ دوزخ میں ہوگا۵؎ (مسلم)

۱؎ یعنی ناحق لینا چاہے غصب یا چوری یا ڈکیتی سے اور جو حق لینا چاہے تو ضرور دے دے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

۲؎ یعنی اس صورت میں اسے اپنا مال نہ دے کیونکہ اپنے کو ظلم سے بچانا اچھا ہے،اسی طرح سود،رشوت، مالی،جرمانہ میں اپنا مال نہ دے کہ یہ تمام صورتیں ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ یہ نہی حرمت کی نہیں،نیز حالت مجبوری اس سے مستثنٰی ہے،یہ بھی خیال رہے کہ



Total Pages: 807

Go To