Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ اس کا مقصد یہ تھا کہ دیت تو جان کی ہوتی ہے اور یہ گرا ہوا بچہ بالکل بے جان ہے کہ پیدا ہوکر چیخا بھی نہیں،کھایا پیا بھی نہیں پھر یہ دیت کیوں واجب ہوئی،گویا اس نے نص کا مقابلہ عقل سے کیا یہ قیاس باطل ہے کہ نص کے مقابل ہے۔

۵؎ یعنی یہ کاہنوں کا بھائی ہے کہ اپنی عقل تیز زبانی مقفّے عبارت سے نص شرعی کا مقابلہ کررہا ہے تو جیسے کہانت بری چیز ہے ایسے ہی اس کا یہ

قول برا ہے۔

۶؎ کیونکہ حضرت سعید ابن المسیب تابعی ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا صحابی کا ذکر نہ کیا اسی کا نام ارسال ہے۔

3509 -[24]

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلا

اور ابوداؤد نے انہیں سعید ابن مسیب سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے متصلًا روایت کیا ۱؎

۱؎ لہذا یہ روایت مرسل نہیں بلکہ متصل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر آگیا۔خیال رہے کہ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اگر بچہ زندہ گر کر مرے تو اس کی دیت پوری ہے یعنی سو اونٹ مگر اس میں اختلاف ہے کہ بچے کی زندگی ثابت کس چیز سے ہوتی ہے ہم احناف کے ہاں رونا،دودھ چوسنا،سانس لینا،چھینکنا علامات زندگی ہیں،ہاں صرف بعض اعضاء کا حرکت کرنا علامت زندگی نہیں مگر امام شافعی کے ہاں صرف رونا علامت زندگی ہے،دلائل فریقین کے اسی جگہ مرقات میں مذکور ہیں۔


 



Total Pages: 807

Go To