Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

میں قاتل وارثوں پر سو اونٹ لازم ہوں گے جو مقتول کے وارثوں کو دیئے جائیں گے مگر ان کے چار حصہ ہوں گے پچیس ایک سالہ اونٹنیاں اورپچیس دو سالہ،پچیس تین سالہ،پچیس چار سالہ۔

3507 -[22]

وَعَن مُجاهدٍ قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت مجاہد سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ حضرت عمر نے شبہ عمد میں تیس جزعہ اور چالیس خلفہ کا فیصلہ فرمادیا جو عمر میں ثنیہ اور بازل کے درمیان ہوں ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ آپ مجاہد ابن جبر ہیں،کنیت ابو حجاج عبداﷲ ابن سائب مخزومی کے آزاد کردہ غلام ہیں،مکہ معظمہ کے مشہور عالم و قاری و فقیہ و محدث ہیں،اپنے زمانہ میں تفسیر کے امام مانے جاتے تھے،بہت جماعت محدثین آپ کی شاگرد ہے۔اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر آپ کے گھوڑے کی رکاب تھاما کرتے تھے،   ۱۰۰ھ؁  میں مکہ معظمہ میں وفات پائی۔

۲؎ یہ حدیث حضرت امام شافعی کی دلیل ہے ان کے ہاں قتل شبہ عمد کی دیت اسی طرح واجب ہوتی ہے بہرحال شبہ عمد کی دیت میں صحابہ کرام کا عمل مختلف رہا ہے ابھی پچھلی روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حکم اس کے خلاف گزرا۔

3508 -[23]

وَعَن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عليهِ: كيفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ» . رَوَاهُ مالكٌ وَالنَّسَائِيّ مُرْسلا

روایت ہے حصرت سعید ابن مسیب سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پیٹ کے بچے میں جو اپنی ماں کے پیٹ میں قتل کردیا جائے ۲؎ ایک غلام یا لونڈی کی پیشانی کا فیصلہ فرمایا۳؎ تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا وہ بولا کہ اس کا تاوان کیونکر دیں جس نے نہ کھایا پیا نہ گفتگو کی اور نہ چیخ ماری ان جیسی چیزیں ضائع کی جانی چاہیے۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ کاہنوں کے بھائیوں سے ہے ۵؎ مالک نسائی ارسالًا ۶؎

۱؎ آپ کی کنیت ابو محمد ہے،قرشی مخزومی مدنی ہیں،خلافت فاروقی میں پیدا ہوئے،حدیث،فقہ،عبادت تقویٰ کے جامع تھے،بہت سے صحابہ کرام سے ملاقات ہے،چالیس حج کیے،     ۹۳ء؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

۲؎  یعنی حاملہ عورت کو مارا گیا جس سے اس کا پورا کچا بچہ گر گیا یا پختہ بچہ تھا جو پیٹ میں مر گیا پھر گر گیا کیونکہ باہر آکر مرے تو پوری دیت سو اونٹ واجب ہوتی ہے۔(اشعہ و مرقات)

۳؎ یعنی قاتل کے وارثوں پر لازم فرمایا کہ جس عورت کا بچہ گر گیا ہے اس کو ایک غلام یا لونڈی دیں جس کی قیمت پانچ سو درہم تھی یعنی پچاس دینار،ہر دینار دس درہم کا یہ تفسیر اس لیے کی گئی کہ حضرت عبداﷲ ابن بریدہ کی روایت میں ہے کہ حضور نے پانچ درہم واجب فرمائے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت زید اسلم سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے معاملہ میں پچاس دینار کا فیصلہ فرمایا لہذا تینوں روایات درست ہیں۔خیال رہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی حکم یہ ہی ہوگا اگر ماں بھی مرجائے تو ماں کی دیت سو اونٹ لازم ہوگی۔

 



Total Pages: 807

Go To