Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الدیات

دیتوں کاباب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ دیتٌ بنا ہے ودیٌ سے بمعنی بہنا اسی لیے جنگل کو وادی کہتے ہیں کہ وہاں بارش میں پانی بہتا ہے۔ودیٌ کا واؤ گراکر اس کے عوض کی ت آخر میں لگادی جیسے وزن سے زنۃ اور وعد سے عدۃ۔اب اصطلاح شریعت میں قتل یا زخم یا اعضاء کاٹنے کے عوض جو مال دیا جائے دیت کہلاتا ہے کیونکہ یہ مال خون بہانے کے عوض ہے۔احناف کے نزدیک قتل کی دیت سو اونٹ ہیں،اگر اونٹ نہ ملیں تو ایک ہزار اشرفیاں سونے کی یا دس ہزار درہم چاندی کے،ان تین چیزوں کے سوا اورکسی مال سے دیت نہیں،صاحبین کے ہاں گائے بکریوں بلکہ کپڑے کے جوڑوں سے بھی دیت دی جاسکتی ہے،دیت کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

3486 -[1]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ» يَعْنِي الخِنصرُ والإبهامَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھنگلی اور انگوٹھا ۱؎  (بخاری)

۱؎ یعنی ہاتھ یا پاؤں کی ہر ایک انگلی میں پوری دیت کا دسواں حصہ واجب ہے دس اونٹ،مگر انگلیوں کے احکام یکساں ہیں کہ اگر چھنگلیاں چھوٹی ہے انگوٹھا بڑا مگر دیت دونوں کی برابر ہے دس دس اونٹ،اگر کوئی شخص انگلی کا پورا کاٹے تو ایک انگلی میں تین پورے ہوتے ہیں لہذا ایک پورے میں دس اونٹ کا تہائی۳-۳/۱ اونٹ،ہاں انگوٹھے میں دو ہی پورے ہیں لہذا اس کا ایک پورا کاٹنے پر دس اونٹ کا آدھا پانچ اونٹ واجب ہوں گے۔ (اشعہ،مرقات)

3487 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مَنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةِ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ مِيرَاثَهَا لبنيها وَزوجهَا الْعقل على عصبتها

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے کچے بچے کے متعلق جو کچا گر گیا تھا ۱؎ ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا ۲؎ پھر وہ عورت جس پر غلام کا فیصلہ کیا گیا تھا مرگئی ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی  میراث اس کے لڑکوں اور خاوند کی ہے ۴؎ اور دیت ۵؎ اس کے وارثوں کی ہے۔(مسلم،بخاری)

۱؎ لحیان قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ ہے،اسی لحیان کی ایک حاملہ عورت کے پیٹ پرکسی نے لات یا گھونسا یا لکڑی ماری جس سے اس کے پیٹ کا مردہ بچہ گر گیا،اگر بچہ زندہ گرتا پھر مرتا تو مارنے والے پر پوری دیت سو اونٹ واجب ہوتی کہ بچے اور بڑے کی دیت برابر ہے مگر یہاں مردہ بچہ گرا تھا اور عورت نہ مری تھی۔

۲؎  غرہ کے معنے ہیں چمک و روشنی اسی لیے چاندنی راتوں کو غرہ کہا جاتا ہے،قوم کے بڑے آدمی کو غریر اور انسان کی پیشانی اور چہرے کی سفیدی کو غرہ کہتے ہیں،یہاں غرہ زائد ہے مراد غلام ہے خون کالا ہو یا سفید۔ (اشعہ)اگر عورت بچہ ڈال کر مرتی تو عورت



Total Pages: 807

Go To