Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎ یعنی جو ولی مقتول قاتل سے دیت لے لے پھر اسے قتل بھی کردے تو اسے معاف نہ کیا جائے گا۔ (لایعفی)یا اسے میں نہ معاف کروں گا(لااعفی)۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ ایسے ولی کو جو دیت لےکر بھی قاتل کوقتل کردے قتل کیا جائے گا مگر مذہب جمہور یہ ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ کوئی اور سزا دی جائے گی۔اسے لا اعفی باب افعال کا ماضی مجہول بھی پڑھا گیا ہے جملہ بد دعا یعنی اﷲ کرے اس کو معاف نہ کیا جائے،غرضکہ جمہور علماء کے نزدیک اس معاف نہ فرمانے سے مراد قتل کر دینا نہیں۔

3480 -[35]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ خَطِيئَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی شخص کہ مصیبت پہنچائی جائے اس کے جسم میں پھر وہ اسے معاف کردے ۱؎ مگر بلندکرے گا اﷲ تعالٰی اس کا درجہ اور معاف کرے گا اس کی خطاء ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ یہاں مصیبت سے مراد کسی انسان مسلمان کی طرف سے زخم یا عضو کاٹنا یا کوئی اور تکلیف پہنچانا ہے آسمانی مصیبت یا قتل مراد نہیں ورنہ معاف کرنے کے کیا معنے،معافی سے مراد قصاص نہ لینا ہے خواہ دیت بھی نہ لے یا دیت لے لے مگر دیت بھی چھوڑ دینے کا ثواب زیادہ ہے اور دیت لے لینے کا ثواب کم۔خیال رہے کہ یہ مسلمان مجرم کے متعلق ہے،کافر مجرم سے ضرور بدلہ لیا جائے اسے معافی دینا یا اپنی کمزوری ہے یا اس مجرم کے لیے دروازہ کھولنا ہے۔

۲؎ یعنی اس معافی کی وجہ سے رب تعالٰی اسے معافی دے گا کیونکہ اﷲ کے بندوں پر رحم کرنا اﷲ تعالٰی کو بہت پسند ہے۔شعر

کرو مہربانی اہل زمیں پر            خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر

الفصل الثالث

تیسری فصل

3481 -[36]

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخطاب قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ:لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا. رَوَاهُ مَالِكٌ

3482 -[37]وروى البُخَارِيّ عَن ابْن عمر نَحوه

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک شخص کے عوض پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیاجنہوں نے اسے فریب سے قتل کردیا تھا ۱؎ اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر سارے صنعاء والے اس پر مل جائیں تو میں ان سب کو قتل کردیتا۲؎(مالک)

اور بخاری نے حضرت ابن عمر سے اس کی مثل روایت کی۔

۱؎  غلیہ غیل سے بنا بمعنی خفیہ،دھوکہ،فریب یعنی ان چند لوگوں نے خفیہ طور پر سازش کرکے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔

۲؎  صنعاءیمن کی ایک بستی ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر ساری بستی والے مل کر اسی ایک شخص کو قتل کردیتے تو اس کے عوض ان سب کو قتل کردیتا۔معلوم ہوا کہ چند قاتل ایک قتل میں قتل کیے جائیں گے کہ سزا سب کی یہ ہی ہے۔

3483 -[38]

وَعَن جُنْدبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ ". قَالَ جُنْدُبٌ: فاتَّقِها. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں نے خبر دی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مقتول اپنے قاتل کو قیامت کے دن لائے گا ۲؎ پھر عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ کہ مجھے کس جرم میں اس نے قتل کیا ۳؎ قاتل کہے گا کہ میں نے اسے فلاں کی سلطنت میں قتل کیا تھا ۴؎ جندب نے فرمایا کہ اس سے بہت ڈرو۵؎(نسائی)

 



Total Pages: 807

Go To