Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب النظر الی المخطوبۃ و بیان العورات

باب جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  مخطوبۃ خطبہ سے بنا ہے،بکسر خاء خطبہ اور خطبہ زیر و پیش سے،دونوں لفظ خطاب سے ماخوذ ہیں،بمعنی کسی سے کلام کرنا،اسی سے ہے مخاطب مگر خطبہ خاء کے پیش سے،اس کا فاعل خطیب ہے اور خطبہ بکسر خاء اس کا فاعل خاطب مفعول مخطوب خطبہ بضم خاء ہر وعظ و خطاب کو کہتے ہیں اور خطبہ خاء کے زیر سے پیغام نکاح کو کہا جاتا ہے جو عورت یا اس کے اولیاء کو دیا جائے لہذا مخطوبہ وہ عورت ہے جس کے نکاح کا پیغام دیا گیا ہو یا دینا ہو مخطوبہ کو پیغام نکاح سے پہلے دیکھ لینا یا دکھوالینا مستحب ہے، امام مالک کے ہاں اجازت سے جائز بغیر اجازت ممنوع ہے(اشعہ)مگر بہتر یہ ہے کہ پیغام سے پہلے دیکھا جائے اور وہ بھی کسی بہانہ سے کہ عورت کو پتہ نہ لگے تاکہ ناپسندیدگی کی صورت میں عورت کو رنج نہ ہو۔عورات عورت کی جمع ہے،یہ لفظ عار بمعنی شرم سے بنا،ستر کو اس لیے عورت کہتے ہیں کہ اس کے اظہار سے شرم ہوتی ہے اس لیے عورت کو عورت کہتے ہیں کہ اس کی بے پردگی باعث ننگ و شرم ہے۔بری بات کو حکم عوراء کہتے ہیں جس کا بولنا باعث غیرت ہو۔(مرقات)

3098 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا ۱؎ بولا میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح لینا ہے ۲؎ فرمایا اسے دیکھ لو ۳؎ کیونکہ انصار کی آنکھ میں کچھ ہوتا ہے ۴؎(مسلم)

۱؎ یہ شخص غیر انصاری تھا جسے انصار کی عورتوں کے متعلق کچھ خبر نہ تھی اگر انصاری ہوتا تو خود ہی تمام چیزوں سے خبردار ہوتا،اسے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

۲؎ یہ ترجمہ ہی مناسب ہے کیونکہ بعد نکاح عور ت دیکھ لی ہی جاتی ہے،نیز پھر دیکھنا بے کار ہے کہ نکاح تو ہو ہی چکا،تزوج سے مرا د ہے ارادۂ نکاح۔

 ۳؎ دیکھنے سے مراد چہرہ دیکھنا ہے کہ حسن وقبح چہرے ہی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد وہ ہی صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی یعنی کسی بہانہ سے دیکھ لینا یا کسی معتبر عورت سے دکھوالینا،نہ کہ باقاعدہ عورت کا انٹرویو(Interveiw)کرنا جیسا کہ آجکل کے بے دینوں نے سمجھا۔

۴؎ یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کی عورتوں کو ان کے مَردوں پر قیاس کیا کہ مَردوں کی آنکھیں نیلگوں تھیں تو عورتوں کی بھی ایسی ہی ہوں گی،یا کسی نے حضور سے یہ عرض کیا ہو گا یا اس لیے کہ حضور ہر کھلے چھپے سے خبردار ہیں یا حضور انور سے مسلمان عورتوں کا پردہ نہیں کہ حضور والد ہیں مگر یہ توجیہ کچھ کمزور سی ہے کیونکہ احترام و ادب میں والد ہیں نہ کہ شرعی احکام میں لہذا حضور سے پردہ فرض ہے جو بیبیاں حضورکے سامنے آئی ہیں وہ رضاعی ہمشیرہ وغیرہ تھیں یا کوئی اور طرح محرم۔(اشعہ و مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں غیبت یعنی کسی کی برائی پس پشت بیان کرنا جائز ہے جب کہ کسی فساد کا روکنا منظور ہو،آج محدثین راویان حدیث کے عیوب بیان کرتے ہیں۔

 



Total Pages: 807

Go To