Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۷؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی وغیرہم فرماتے ہیں اگر مسلمان کسی کافر کو قتل کردے تو اس کے عوض مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا بلکہ اس کی دیت دلوائی جائے گی  مگر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں  کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہیں ان کے قتل سے مسلمان پر قصاص نہیں،رہےذمی کفار اور مستامن جو ہماری امان میں ہمارے ملک میں رہتے ہوں یا باہر سے آئے ہوں ان کو اگر مسلمان قتل کردے تو قصاص لیا جائے گا کیونکہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فدماءھم کدمائنا و اموالہم کاموالنا ان ذمیوں مستامنوں کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں اور ان کے مال ہمارے مالوں کی طرح ہیں اسی لیے اگر مسلمان چور کافر ذمی کا مال چرالے تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے،نیز عبدالرحمن بن سلمان نے روایت کی کہ حضور کے زمانہ شریف میں ایک مسلمان نے کسی ذمی کو قتل کردیا تو حضور نے اسے قتل کرایا،وہ احادیث پاک کی شرح ہے۔

۸؎ یعنی وہ حدیث کہ نہیں قتل کیا جاتا کوئی نفس مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے قابیل کا اس میں حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے ظلمًا قتل ایجاد کیا مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم مناسبت سے کے لحاظ سے کتاب العلم کے شروع میں رکھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3462 -[17]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ ووقفَه بعضُهم وَهُوَ الْأَصَح

3463 -[18] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دنیا کا مٹ جانا اﷲ کے ہاں آسان ہے مسلمان آدمی کے قتل سے ۱؎ (ترمذی، نسائی)اور بعض نے اسے موقوف بیان کیا۲؎ وہ ہی زیادہ صحیح ہے۔

اور اسے ابن ماجہ نے براء ابن عازب سے روایت کی۔

۱؎ یہاں مسلم سے مراد مرد مؤمن عارف باﷲ ہے یعنی ایک عارف باﷲ کا قتل ساری دنیا کی بربادی سے سخت تر ہے کیونکہ دنیا عارفین ہی کے لیے تو بنی ہے تاکہ وہ اس میں غوروفکر کرکے عرفان میں اضافہ کردیں اور یہاں اعمال کرکے آخرت میں کمال حاصل کریں،دولہا کی ہلاکت بارات کی ہلاکت سے سخت تر ہے کہ مقصود برات وہ ہی ہے۔

۲؎ یعنی خود سیدنا عبداﷲ ابن عمر کا اپنا قول نقل فرمایا،یہ ہی صحیح تر ہے لیکن ایسی موقوف حدیث حکمًا مرفوع ہوتی ہے کیونکہ محض عقل و قیاس سے ایسی بات نہیں کہی جاسکتی۔

3464 -[19]

وَعَن أبي سعيدٍ وَأبي هريرةَ عَن رسولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اگر زمین و آسمان والے ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوجائیں ۱؎ تو اﷲ تعالٰی انہیں آگ میں اوندھا ڈال دے ۲؎ اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To